مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 313
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 295 مولانا محمد سلیم صاحب کی حیفا آمد مولا نا ابو العطاء صاحب کی واپسی کے بعد الحاج مولا نا محمد سلیم صاحب فلسطین میں بطور مبلغ تشریف لائے۔آپ جنوری 1936 ء سے مارچ 1938 ء تک یہاں رہے۔آپ کے چارج لینے کے چند ہفتے بعد فلسطین بھر میں عربوں اور یہودیوں کی باہمی کشمکش کی وجہ سے عام ہڑتال شروع ہو گئی جو چھ ماہ تک جاری رہی جس نے جلدی شورش کی شکل اختیار کر لی۔تاہم آپ نے دار التبلیغ کے مرکز کہا بیر میں درس و تدریس کا سلسلہ با قاعدہ جاری رکھا۔اس دوران آپ تبلیغ کی غرض سے مصر بھی تشریف لے گئے اور مصر، فلسطین ، شرق اردن میں مسلمان علماء اور عیسائی پادریوں سے مناظرے کئے جن میں سچائی کو فتح نصیب ہوئی۔البشری میں نشر ہونے والی بعض رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں آپ کی مساعی سے متعدد افراد سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔علاوہ ازیں آپ نے مجلہ البشری کی ادارت ، اس میں مختلف موضوعات پر مضامین لکھنے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے خطبات کے تراجم نشر کرنے کا بھی گرانقدر کام کیا۔آپ نے اپنے زمانہ قیام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مشہور کتاب الاستفتاء شائع کی نیز رسالہ أسئلة وأجوبة (پہلا حصہ ) بھی لکھا۔نمائندہ سلطان مسقط قادیان میں شاید تاریخی اہمیت کے اعتبار سے یہ ذکر کرنا ضروری ہو کہ بعض عرب حکومتوں کے نمائندے اور سفراء وغیرہ بھی اس زمانہ میں جماعت کے بارہ میں اپنی معلومات میں اضافہ کرنے اور جماعت کے دینی ماحول کا جائزہ لینے کے لئے قادیان آیا کرتے تھے۔اسی سلسلہ میں مسٹر عبدا منعم نمائندہ سلطان مسقط 5 / جنوری 1937 ء کو قادیان تشریف لائے۔تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 437)