مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 20 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 20

مالی قربانی 20 دوسرے پر سبقت لے جائے اور خدا جانتا ہے ان کو جو سبقت لے جائیں گے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور بیعت کے ہاتھ اور اپنے عہد کی رعایت رکھی اور اچھے کام کئے پھر ترقیات کرتے رہے پھر استقامت اختیار کی ان کے لئے مغفرت اور رزق بزرگ اور خدا کی رضا ہے اور وہی سچے مومن ہیں اور وہی ہیں جو خدا کے نیک بندوں میں سے ہیں۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۱۵۱ تا ۱۵۳) اپنی عزیز اور پیاری چیزوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرو " بے کار اور نکھی چیزوں کے خرچ سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعوی نہیں کرسکتا۔نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔پس یہ امر ذہن نشین کرلو کہ لکھی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ نص صریح ہے۔لَنْ تَنَالُو البِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّاتُحِبُّونَ جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو کیونکر کامیاب اور بامراد ہو سکتے ہو؟ کیا صحابہ کرام مفت میں اس درجہ تک پہنچ گئے جو ان کو حاصل ہوا۔دنیاوی خطابوں کے حاصل کرنے کیلئے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تو پھر کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتی ملتا ہے۔پھر خیال کرو کہ رضی اللہ عنہم کا خطاب جو دل کو تسلی اور قلب کو اطمینان اور مولا کریم کی رضامندی کا نشان ہے کیا یونہی آسانی سے مل گیا ؟ بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی رضامندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے۔حاصل نہیں ہوسکتی جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں۔خدا ٹھگا نہیں جاتا۔مبارک ہیں وہ لوگ ! جو رضائے الہی کے حصول کیلئے تکلیف کی پرواہ نہ کریں۔کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کوملتی ہے۔" ( رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد دوم صفحه ۱۳۱) ایک تعارف