مالی قربانی ایک تعارف — Page 163
مالی قربانی 163 ANNEXURE I ایک تعارف وصیت سے متعلق مختلف امور کی وضاحت سوال آمد اور جائیداد پر شرح وصیت کیا ہے؟ جواب:۔ایک موصی کے لئے ضروری ہے کہ ا۔بوقت وفات اپنی جائیداد پر 1/10 سے لیکر 113 حصہ کی ادائیگی کی وصیت کرے۔۲۔دوران زندگی جائیداد سے حاصل ہونے والی آمد کے علاوہ ، تمام ذرائع سے حاصل ہونے والی آمد کا 1/10 سے لیکر 1/3 حصہ بطور چندہ حصہ آمد ادا کرے۔آمد از جائیداد پر چندہ حصہ آمد بمطابق شرح چندہ عام (1/16 ) ادا کرے۔سوال:۔اگر بوقت وصیت کسی شخص کی مستقل ایک بھی آمد نہ ہو، تو وہ اپنی ماہانہ آمد کی تحریر کرے؟ جواب:۔اس صورت میں اسے اپنی انداز ماہانہ آمد تحریر کرنی چاہیے ہے۔یا چھ ماہ یا سال کی آمد کی اوسط تحریر کر دینی چاہیئے۔سوال:۔ایسی خاتون خانہ جو موصیہ ہو اور خود کوئی کام نہ کرتی ہو، عام طور پر ان سے جیب خرچ پر چندہ لیا جاتا ہے۔کیا اس بارہ میں کوئی رہنما اصول ہیں ؟ جواب:۔عورتوں کو حسب توفیق رہن سہن کے معیار کے لحاظ سے قربانی کرنی چاہیئے۔عام طور پر بیوی کیلئے چندہ وصیت کی ادائیگی کا طریق یہی ہے کہ اگر اسکی آمدنی کوئی نہ ہو تو اس کا خاوند مناسب جیب خرچ مقرر کرے اور وہ اسکی بیوی کی آمد متصور ہو اور اسطرح مالی قربانی کے تسلسل کو قائم رکھنے کی خاطر اس جیب خرچ پر چندہ وصیت ادا کرے۔جیب خرچ کا تعین ہر ایک کے رہن سہن کو مدنظر رکھ کر مقرر کیا جاتا ہے سوال: کیا موصی طالب علم پر اپنے جیب خرچ / وظیفہ پر چندہ وصیت کی ادا ئیگی لازم ہوگی ؟ جواب:۔طالب علمی وظیفوں پر شرح کا اطلاق نہیں ہو گا۔طلباء سے توقع رکھی جائے گی کہ وہ حسب حیثیت