مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 3 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 3

مالی قربانی 3 ایک تعارف اس طور پر اس کارخانہ کی مدد کر سکتے ہیں جو اپنی اپنی طاقت مالی کے موافق ماہواری امداد کے طور پر عہد پختہ کے ساتھ کچھ کچھ رقوم نذر اس کارخانہ کی کیا کریں۔کسل اور سردمہری اور بدظنی سے کبھی دین کو فائدہ نہیں پہنچتا۔بدظنی ویران کرنے والی گھروں کی اور تفرقہ میں ڈالنے والی دلوں کی ہے۔دیکھو جنہوں نے انبیاء کا وقت پایا انہوں نے دین کی اشاعت کیلئے کیسی کیسی جانفشانیاں کیں۔مسلمان بننا آسان نہیں۔مومن کا لقب پاناسہل نہیں۔سواے لوگو اگر تم میں وہ راستی کی روح ہے جو مومنوں کو دی جاتی ہے تو اس میری دعوت کو سرسری نگاہ سے مت دیکھو نیکی حاصل کرنے کی فکر کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں آسمان پر دیکھ رہا ہے کہ تم اس پیغام کو سن کر کیا جواب دیتے ہو۔" حضور علیہ السلام مزید فرماتے ہیں :- (فتح اسلام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۰) " میں یقیناً جانتا ہوں کہ خسارہ کی حالت میں وہ لوگ ہیں جو ریا کاری کے موقعوں میں تو صدہا روپیہ خرچ کریں اور خدا کی راہ میں پیش و پس سوچیں۔شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر پھر اپنی خست اور بخل کو نہ چھوڑے۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ہمارے نبی ﷺ نے بھی کئی مرتبہ صحابہ پر چندے لگائے۔جن میں حضرت ابوبکر سب سے بڑھ کر رہے۔سومردانہ ہمت سے امداد کیلئے بلا توقف قدم اٹھانا چاہیئے۔جو ہمیں مدد دیتے ہیں آخر وہ خدا کی مدد دیکھیں گے۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحه ۱۵۶) خدا کے نبی کے ہاتھ سے لکھے ہوئے یہ نام آج بھی زندہ ہیں اور اسکی دی ہوئی دعا قیامت تک کیلئے ان لوگوں کی نسلوں کو بھی فیضیاب کرتی رہے گی۔کیونکہ خدا کی راہ میں نیک نیتی سے کی جانے والی قربانی رائیگاں نہیں جاتی۔الہی سلسلے اپنے نبی کی زندگی کے ساتھ ختم نہیں ہو جایا کرتے بلکہ بی تو تخم ریزی کرتے ہیں اور یہ تم ان کے جانشینوں کے عہدوں میں پھلتا پھولتا اور ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرتا ہے۔