ملفوظات (جلد 9) — Page 88
۱۰؍فروری ۱۹۰۷ء مینجر گوروکل گوجرانوالہ کا پھر ایک خط حضرت صاحب کے نام آیا جس کا جواب حضور نے مفتی صاحب کو لکھنے کے لیے فرمایا۔چنانچہ مفصلہ ذیل خط لکھا گیا۔جناب مینجر صاحب گوروکل گوجرانوالہ تسلیم! آپ کا دوسرا خط حضرت کی خدمت میں پہنچا جس میں آپ نے ظاہر کیا ہے کہ آپ نصف گھنٹہ سے زیادہ وقت نہیں دے سکتے اور کہ ایک عالم کے واسطے بسبب اس کے علم کے اتنا وقت کافی ہے۔بجواب گذارش ہے کہ حضرت فرماتے ہیں کہ اہم مذہبی امور پر گفتگو کرنے کے واسطے اتنا تھوڑا وقت کسی صورت میںکافی نہیں ہو سکتا۔اس واسطے ہم ایسی مجلس میں شریک نہیں ہو سکتے۔اگر آپ کم از کم تین گھنٹہ کا وقت ہمارے مضمون کے واسطے رکھتے تو ممکن تھا کہ ہم خود جاتے یا اپنا کوئی فاضل دوست اپنا مضمون دے کر بھیج دیتے ہم کسی طرح سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ایسے مضامین عالیہ میں صرف آدھ گھنٹہ کی تقریر کافی ہےہم رسوم کے پابند نہیں۔بلکہ ہم پابند احقاق حق ہیں۔باقی آپ کا یہ فرمانا کہ بڑے عالم کے واسطے نصف گھنٹہ کافی ہے۔مجھے تعجب ہے کہ یہ بات کیوں کر آپ درست قرار دیتے ہیں۔جبکہ آپ کے وید مقدس کے لکھنے والوں نے اپنی باتوں کو ختم نہ کیا جب تک کہ وہ ایک گدھے کے بوجھ کے برابر نہ ہوگئے تو پھر آپ ہم سے یہ امید کیوں کر رکھتے ہیں۔ایک نکتہ معرفت کا قبل از تکمیل گلا گھونٹنا در حقیقت سچائی کا خون کرنا ہے جس کو کوئی راستباز پسند نہیں کرے گا۔اگر علم اور فضل کا معیار حد درجہ کے اختصار اور تھوڑے وقت میں ہوتا تو چاہیے تھا کہ وید صرف چند سطروں میں ختم ہوجاتا۔مجھے افسوس ہے کہ اس تھوڑے وقت نے مجھے اس اشتراک سے محروم رکھا۔کیا خدا تعالیٰ کی ذات صفات کی نسبت کچھ بیان کرنا اور پھر روح اور مادہ میں جو کچھ فلاسفی مخفی ہے اس کو کھولنا آدھ گھنٹہ کا کام ہے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ یہ لفظ ہی سوءِ ادب میں داخل ہے جن لوگوں کو محض شراکت کا فخر حاصل کرنا مقصود ہے وہ جو چاہیں کریں مگر ایک محقق ناتمام تقریر پر خوش نہیں ہوسکتا