ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 71

جائز ہیں۔مثلاً چندہ وغیرہ نماز باجماعت ادا کرنے کا جو حکم ہے۔تو اسی لئے کہ دوسروں کو ترغیب ہو۔غرض اظہار و اخفا کےلئے موقع ہے اصل بات یہ ہے کہ شریعت سب رسوم کو منع نہیں کرتی۔اگر ایسا ہوتا تو پھر ریل پر چڑھنا، تار، ڈاک کے ذریعے خبر منگوانا سب بدعت ہوجاتے۔تنبول میں نے عرض کیا کہ تنبول کی نسبت حضور کا ارشاد۔فرمایا۔اس کا جواب بھی وہی ہے۔اپنے بھائی کی ایک طرح کی امداد ہے۔عرض کیا گیا ہے۔جو تنبول ڈالتےہیں وہ تو اس نیت سے ڈالتے ہیں کہ ہمیں پانچ کے چھ روپے ملیں اور پھر اسی روپیہ کو کنجروں پر خرچ کرتے ہیں۔فرمایا۔ہمارا جواب تو اصل رسم کی نسبت ہے کہ نفس رسم پر کوئی اعتراض نہیں۔باقی رہی نیت سو آپ ہر ایک کی نیت سے کیوں کر آگاہ ہو سکتے ہیں۔یہ تو کمینہ لوگوں کی باتیں ہیں کہ زیادہ لینے کے ارادے سے دیں یا چھوٹی چھوٹی باتوں کا حساب کریں۔ایسے شریف آدمی بھی ہیں جو محض بہ تعمیل حکم تعاون و تعلقات محبت تنبول ڈالتےہیں۔اور بعض تو واپس لینا بھی نہیں چاہتے بلکہ کسی غریب کی امداد کرتے ہیں۔غرض سب کا جواب ہے اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔۱ ۳؍جنوری ۱۹۰۷ء ہمارے کلام عربی پر جو بعض نادان اعتراض کرتے ہیں تو اصل بات یہ ہے کہ وہ قرآن مجید و احادیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غور سے نہیں پڑھتے اگر تدبر سے پڑھیں تو معلوم ہو کہ وہ بھی ان کی خود ساختہ صرف و نحو سے نہیں بچتے۔دیکھئے شمس کو جب حضرت ابراہیم نے دیکھا تو فرمایا هٰذَا رَبِّيْ۔حالانکہ شمس مؤنث ہے۔یہ لوگ کلمہ کی تعریف کیا کرتے ہیں۔لفظ جو معنی مفرد کے لئے وضع کیا گیا ہو۔مگر قرآن مجید میں کلام تام کو كَلَّا اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا کہا ہے۔ایسا ہی تکرار کو یہ لوگ خلاف فصاحت سمجھتے ہیں مگر قرآن مجید کی کئی آیات میں تکرار ہے۔تکرار تسلّی کے لئے ہوتا ہے۔چنانچہ کئی ۱ بدر جلد ۶ نمبر۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۴