ملفوظات (جلد 9) — Page 245
نہیں آیا تو بقول اس کے یہ صدی ہی خالی گئی۔سب نشانات پورے ہوگئے مگر مسیح ابھی تک نہ آیا۔احادیث میں لکھا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو علماء زمانہ اس کی بہت مخالفت کریں گے کیونکہ وہ ان کی حدیثوں کے خلاف کرے گا۔نواب صدیق حسن خاں نے بھی لکھا ہے کہ مولوی لوگ اس پر تکفیر کے فتوے لکھیں گے اور کہیں گے کہ یہ دین اسلام کو تباہ کر رہا ہے۔اب عبد الحکیم جو میری نسبت ایسا ویسا لکھتا ہے تو یہ خود پیشگوئیوں کو پورا کر رہا ہے۔گالی گلوچ نکالنے اور طرح طرح کے بہتان باندھنے سے یہ مجھ کو جھٹلاتا نہیں بلکہ تصدیق کرتا ہےا ور ان پیشگوئیوں کو پورا کرتا ہے جن میں لکھا ہے کہ اس زمانہ کے علماء مسیح کی بڑی مخالفت کریں گے اور اس کو دین کے تباہ کرنے والا اور مفتری قرار دیں گے۔۱ ۱۲؍ستمبر ۱۹۰۷ء (بوقتِ ظہر) مسیح موعودؑ کے لیے علامات کا پورا ہونا فرمایا۔سِوَل اخبار میں لکھا ہے کہ روز بروز اب اونٹ بیکار ہوتے جاتے ہیں۔کیسی بیّن طور پر قرآن شریف اور حدیث کی تصدیق ہوتی جاتی ہے حدیث میں لکھا ہے۔وَلَیُتْـرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْـھَا اور قرآن شریف میں وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ(التکویر:۵) لکھا ہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی مامور من اللہ مبعوث ہوتا ہے تو زمانہ میں جتنی بڑی بڑی کارروائیاں ہوں اور بڑے بڑے انقلاب ظہور میں آویں تو وہ سب اسی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔کسر صلیب اور وضع حرب کی حقیقت آجکل جنگ و جدال کو دور کرنے کے لیے جو بڑے بڑے عہدوپیمان ہو رہے ہیں۔اور زمانہ خود بخود صلح اور امن کی طرف رجوع کرتا جاتا ہے اس پر فرمایا کہ یَضَعُ الْـحَرْبَ اور یَکْسِـرُ الصَّلِیْبَ سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ ایک شخص ہوگا اور وہ لڑائیوں ۱الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۲