ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 70

محبت کا تقاضا تو یہی ہے کہ آپ کی اتباع میں ایسا گم ہو کہ اپنے جذبات نفس کو تھام لے اور یہ سوچ لے کہ میں کسی کی اُمت ہوں۔ایسی صورت میں جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اب تک زندہ ہیں وہ کیونکر آپ کی محبت اور اتباع کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ اس لئے کہ آپ کی نسبت وہ گوارا کرتا ہے کہ مسیح کو افضل قرار دیا جاوے اور آپ کو مُردہ کہا جاوے مگر اُس کے لئے وہ پسند کرتا ہے کہ زندہ یقین کیا جاوے۔۱ حیات مسیح کے عقیدہ کے نقصانات میں سچ سچ کہتا ہوں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہتے تو ایک فرد بھی کافر نہ رہتا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی نے کیا نتیجہ دکھایا؟ بجز اس کے کہ چالیس کروڑ عیسائی ہیں۔غور کر کے دیکھو کہ کیا تم نے اس زندگی کے اعتقاد کو آزما نہیں لیا اور نتیجہ خطرناک نہیں ہوا؟ مسلمانوں کی کسی ایک قوم کا نام لو جس میں سے کوئی عیسائی نہ ہوا ہو مگر میں یقیناً کہہ سکتا ہوں اور یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر طبقہ کے مسلمان عیسائی ہو چکے ہیں۔اور ایک لاکھ سے بھی ان کی تعداد زیادہ ہوگی۔عیسائیوں کے ہاتھ میں مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے واسطے ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ یہی زندگی کا مسئلہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ خصوصیت کسی دوسرے میں ثابت کرو۔اگر وہ خدا نہیں تو پھر کیوں اسے یہ خصوصیت دی گئی؟ وہ حیّ و قـیوم ہے (نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذَالِکَ) اس حیات کے مسئلہ نے ان کو دلیر کر دیا اور انہوں نے مسلمانوں پر وہ حملہ کیا جس کا نتیجہ میں تمہیں بتا چکا ہوں۔اب اس کے مقابل پر اگر تم پادریوں پر یہ ثابت کردو کہ مسیح مر گیا ہے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ میں نے بڑے بڑے پادریوں سے پوچھا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جاوے کہ مسیح مر گیا ہے تو ہمارا مذہب زندہ نہیں رہ سکتا۔ایک اور غور طلب بات ہے کہ مسیح کی زندگی کے اعتقاد کا تو آپ لوگوں نے تجربہ کیا۔اب ذرا اس کی موت کا بھی تجربہ کرو اور دیکھو کہ عیسائی مذہب پر اس اعتقاد سے کیا زد پڑتی ہے۔جہاں کوئی لحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۲ مورخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۶صفحہ۲،۳