ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 22

جائیں گے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کی فتح اسی میں ہے۔اگر ہم عیسائیوں کی ہاں میں ہاں ملا دیں تو ہم ان کو کیونکر زیر کر سکتے ہیں۔ہمارے مخالف مرنے کے بعد یقیناً سمجھ لیں گے کہ وہ اسلام کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں۔عادت بھی ایک بُت ہوتا ہے اور یہ لوگ اس بُت کی پرستش کر رہے ہیں۔مسیح علیہ السلام کی زندگی اور نزول کے بارہ میں ایک گفتگو یہاں پر ایک مولوی صاحب مخالفین کی جماعت میں سے بول اٹھے اور چونکہ پھر انہوں نے حضرت کو مسلسل تقریر کرنے نہیں دی بلکہ جلدی جلدی سوال پر سوال کرتے گئے اور کسی سوال کے متعلق حضرت کا جواب پورا نہ سنا۔اس واسطے تقریر مذکورہ بالا تو ختم ہوگئی۔مولوی صاحب سے سوال جواب میں درج کرتا ہوں تاکہ دہلی کے مولویوں کا نمونہ ناظرین کو نظر آجائے۔مولوی صاحب۔تو جن روایات سے حضرت عیسیٰ کی زندگی ثابت ہے ان کو کیا کریں؟ حضرت۔جو روایت قرآن اور حدیث صحیح کے مخالف ہو وہ ردّی ہے۔قابل اعتبار نہیں۔قولِ خدا کے برخلاف کوئی بات نہیں ماننی چاہیے۔مولوی صاحب۔اور جو وہ روایت بھی صحیح ہو۔حضرت۔جب قولِ خدا قولِ رسول کے برخلاف ہوگی تو پھر صحیح کس طرح؟ خود بخاری میں مُتَوَفِّيْكَ کے معنے مُـمِیْتُکَ کے لکھے ہیں۔مولوی صاحب۔ہم بخاری کو نہیں مانتے اور روایتوں میں مسیح کی زندگی لکھی ہے۔قرآن کی تفسیروں میں لکھا ہے کہ مسیح زندہ ہے۔حضرت۔تمہارا اختیار جو چاہو مانو یا نہ مانو اور قرآن شریف خود اپنی تفسیر آپ کرتا ہے۔خدا نے مجھے اطلاع دی کہ حضرت عیسیٰ فوت ہوگئے اور کتاب اللہ اور احادیث صحیحہ کے مطابق یہ بات ہے جس کے کان سننے کے ہوں سنے۔قرآن و حدیث کے مخالف ہم کوئی روایت نہیں مان سکتے۔مولوی صاحب۔اور جو وہ بھی صحیح ہو تو؟ حضرت۔وہ صحیح ہو ہی نہیں سکتی۔