ملفوظات (جلد 8) — Page 281
اچھا نام پیدا کیا۔سو یہ سب شیطانی طریق ہیں جن سے توبہ کرنا لازم ہے۔(۴) اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو دوسرا خاوند کرنا ایسا بُرا جانتی ہے جیسا کہ کوئی بڑا بھاری گناہ ہوتا ہے اور تمام عمر بیوہ اور رانڈ رہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور پاکدامن بیوی ہوگئی ہوں۔حالانکہ اس کے لیے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے۔عورتوں کے لیے بیوہ ہونے کے حالت میں خاوند کر لینا نہایت ثواب کی بات ہے۔ایسی عورت حقیقت میں بڑی نیک بخت اور ولی ہے جو بیوہ ہونے کی حالت میں بڑے ہونے کی حالت میں بُرے خیالات سے ڈر کر کسی سے نکاح کر لے اور نابکار عورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے۔ایسی عورتیں جو خدا اور رسول کے حکم سے روکتی ہیں خود لعنتی اور شیطان کی چیلیاں ہیں جن کے ذریعہ سے شیطان اپنا کام چلاتا ہے۔جس عورت کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پیارا ہے اس کو چاہیے کہ بیوہ ہونے کے بعد کوئی ایماندار اور نیک بخت خاوند تلاش کر لے اور یاد رکھے کہ خاوندکی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وظائف سے صدہا درجہ بہتر ہے۔(۵) عورتوں میں ایک خراب عادت یہ بھی ہے کہ وہ بات بات میں مردوں کی نافرمانی کرتی ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر ان کا مال خرچ کر دیتی ہیں اورناراض ہونے کی حالت میں بہت کچھ بُرا بھلا ان کے حق میں کہہ دیتی ہیں۔ایسی عورتیں اللہ اور رسول کے نزدیک لعنتی ہیں۔ان کا نماز روزہ اور کوئی عمل منظور نہیں۔اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ کوئی عورت نیک نہیں ہو سکتی جب تک پوری پوری خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے اور دلی محبت سے اس کی تعظیم نہ بجا لائے اور پس پشت یعنی اس کے لیے اس کی خیر خواہ نہ ہو اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے مردوں کی تابعدار رہیں ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں اور نیز فرمایا ہے کہ اگر غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بد زبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے اور حکم ربانی سن کر بھی باز نہیں آتی تو وہ لعنتی ہے۔خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔عورتوں کو چاہیے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چراویں