ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 50

پھر مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ہے یعنی جزا وہی دیتا ہے اور وہی یوم الجزاء کا مالک ہے۔اس قدر صفاتُ اللہ کے بیان کے بعد دعا کی تحریک کی ہے۔جب انسان اللہ تعالیٰ کی ہستی اور ان صفات پر ایمان لاتا ہے تو خواہ مخواہ روح میں ایک جوش اور تحریک ہوتی ہے اور دعا کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتی ہے۔اس لیے اس کے بعد اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ(الفاتـحۃ:۶) کی ہدایت فرمائی۔۱ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تجلیات اور رحمتوں کے ظہور کے لیے دعا کی بہت بڑی ضرورت ہے۔اس لیے اس پر ہمیشہ کمر بستہ رہو اور کبھی مت تھکو۔غرض اصلاحِ نفس کے لیے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے لیے نیکیوں کی توفیق پانے کے واسطے دوسرا پہلو دعا کا ہے۔اس میں جس قدر توکل اوریقین اللہ تعالیٰ پر کرے گا۔اور اس راہ میں نہ تھکنے والا قدم رکھے گا اسی قدر عمدہ نتائج اور ثمرات ملیں گے۔تمام مشکلات دور ہوجائیں گی اور دعا کرنے والا تقویٰ کے اعلیٰ محل پر پہنچ جاوے گا۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہو سکتا۔نفسانی جذبات پر محض خدا تعالیٰ کے فضل اور جذبہ ہی سے موت آتی ہے اور یہ فضل اور جذبہ دعا ہی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ طاقت صرف دعا ہی سے ملتی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ مسلمانوں اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دعاکی بے قدری نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہی دعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہیے۔اور دوسرے مذاہب کے آگے تو دعا کے لیے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں۔۲ اور وہ توجہ نہیں کر سکتے۔میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ایک عیسائی جو خونِ مسیح پر ایمان لا کر سارے گناہوں کو معاف شدہ سمجھتا ہے اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دعا کرتا رہے؟ اور ایک ہندو جو یقین کرتا ہے کہ توبہ قبول ہی نہیں ہوتی اور تناسخ کے چکر سے رہائی ہی نہیں ہے وہ کیوں دعا کے واسطے ٹکریں مارتا رہے گا؟ وہ تو یقیناً سمجھتا ہے کہ کتے، بلے، بندر، سؤر بننے سے چارہ ہی نہیں ہے۔اس لیے یاد رکھو کہ یہ اسلام کا فخر اور ناز ہے کہ اس میں دعا کی تعلیم