ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 159

سیکھنے کے واسطے ایک مدرسہ قائم کیا ہے اور جاپان میں کئی ایک آدمی بھیجے ہیں۔اگرمناسب ہو تو سلسلہ حقہ کی اس ملک میں اشاعت کے واسطے کوئی تجویز کی جائے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ہر نبی اور رسول کا آخری زمانہ اس کے سلسلہ کی نصرت کا وقت ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت کا پہلا بہت سا حصہ مصائب اور تکالیف میں گذرا تھا اور فتوحات اور نصرت کا زمانہ آپ کی عمر کا آخری حصہ ہی تھا ہم بھی اپنی عمر کا بہت سا حصہ طے کر چکےہیں اور زندگی کا کچھ اعتبار نہیں۔اب خدا کے وعدوں کے پورے ہونے کے دن ہیں۔ہماری حالت وہ ہے کہ عدالت میں مدت سے کسی کا مقدمہ پیش ہے اور اب فیصلہ کے دن قریب ہیں۔ہمیں مناسب نہیں کہ اور طرف توجہ کر کے اس فیصلہ میں گڑ بڑ ڈال دیں۔ہم چاہتے ہیں کہ اب اس فیصلہ کو دیکھ لیں۔اس ملک میں جو جماعت طیار ہوئی ہے ابھی تک وہ بھی بہت کمزور ہے۔بعض ذرا سے ابتلا سے ڈر جاتے ہیں اور لوگوں کے سامنے انکار کر دیتے ہیں اور پھر بعد میں ہم کو خط لکھتے ہیں کہ ہمارا انکار دلی نہیں ہے۔گو ایسے لوگ اس آیت کی ذیل میں آجاتے ہیں مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ (الـنحل:۱۰۷) تاہم جن کے دلوں میں حلاوت ایمانی پورے طور سے بیٹھ جائے وہ ایسا فعل نہیں کر سکتے۔فی الحال موجودہ معاملات میں ہی توجہ اور دعا کی بہت ضرورت ہے اور ہم خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں کہ اب معاملہ دور جانے والا نہیں۔ایسے معاملات میں آریوں کے ساتھ ہماری کوئی مناسبت نہیں ہو سکتی۔وہ قوم کو بڑھانا چاہتے ہیں اور ہم دنیا میں تقویٰ اورنیکی کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔اگر ہم آریوں کی نقل کرنا چاہیں تو ان کی پیروی ہمارے لیے منحوس ہوگی۔اور ہم کو وحی کرنے والے گویا وہی ٹھہریں گے۔اگر خدا تعالیٰ جاپانی قوم میں کسی تحریک کی ضرورت سمجھے گا تو خود ہم کو اطلاع دے گا۔عوام کے واسطے امور پیش آمدہ میں استخارہ ہوتا ہے اور ہمارے واسطے استخارہ نہیں۔جب تک پہلے سے خدا تعالیٰ کا منشا نہ ہو ہم کسی امر کی طرف توجہ کر ہی نہیں سکتے۔ہمارا دارو مدار خدا تعالیٰ کے حکم پر ہے۔انسان کی اپنی کی ہوئی بات میں اکثر ناکامی ہی حاصل ہوتی ہے۔اگر خدا چاہے گا تو اس ملک میں طالب اسلام پیدا کر دے گا جو خود ہماری طرف توجہ کرے گا۔اب