ملفوظات (جلد 7) — Page 108
یکم اپریل ۱۹۰۵ء شیخ عبد الحق صاحب بی اے حضرتؑکی خدمت میں حاضر ہوئے۔فرمایا۔مدرسہ میں آپ کے تقرر کی بہت خوشی ہوئی۔خدا مبارک کرے۔آپ کا یہاں قیام کرنا میں بہت پسند کرتا ہوں۔۱ (قبل ظہر ) اعلیٰ حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ظہر سے پیشتر تھوڑی دیر مجلس فرمائی۔فرمایاکہ عصر کے بعد میری طبیعت خراب ہوجاتی ہے میں اس لیے شام کو آ نہیں سکتا۔اپنے محبین سے شفقت اور ہمدردی مولانا مولوی عبد الکریم صاحب سَلَّمَہٗ رَبُّہٗ کو کثرت پیشاب کی دو تین دن سے پھر شکایت ہو گئی ہے اور آج اعلیٰ حضرت نے ان کا قارورہ منگوا کر دیکھا تھا جو کثیر مقدار میں تھا۔اس کے متعلق مولوی عبد الکریم صاحب کو مخاطب کر کے جو کچھ فرمایا اس سے آپ کی کمال شفقت اور ہمدردی کا ثبوت ملتا ہے اس لیے میں خلاصۃً اسے اپنے الفاظ میں درج کرتا ہوں۔فرمایا۔میں آپ کا پیشاب دیکھ کر بہت حیران ہوگیا۔میں نے تو اس کے بعد دعا ہی شروع کر دی اور انشاء اللہ بہت دعا کروں گا۔۲ مجھے چونکہ خود کثرت پیشاب کی شکایت ہے میں جانتا ہوں کہ کس قدر تکلیف ہوتی، دل گھٹتا ہے اور پنڈلیوں میں درد ہونے لگتا ہے۔بہت بے چینی اور گھبراہٹ ہو جاتی ہے۔میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس رسالہ۳ کو ختم کر لینے کے بعد کچھ دنوں تک صرف دعا ہی میں لگا رہوں گا۔