ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 312

کے درمیان ایک فرقان رکھا جاتا ہے۔قرآن شریف میں مومن سے یہ مراد نہیں ہے کہ صرف زبان تک ہی اس کی قیل و قال محدود ہو اور صبح وہ ایمان کا کام کرے تو شام کو کفر کا کرے۔ایک لقمہ وہ تریاق کا کھا لیتا ہے اور دوسرا زہر کا بھی کھا لیتا ہے۔ایسے شخص کو وہ فرقان اور امتیاز جو مومن کے لیے مقرر کیا گیا ہے نہیں دیا جاتا۔تم خود ہی سوچ لو کہ وہ مریض جو پرہیز نہیں کرتا ہے خواہ اس کو کیسے ہی شفا بخش نسخے دئیے جاویں اور وہ کتنے ہی مجرب کیوں نہ ہوں لیکن اگر وہ پرہیز نہیں کرتا تو وہ نسخے اس کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔پس یہی حال بیعت کا ہے۔اگر کوئی شخص بیعت تو کرتا ہے لیکن شرائط بیعت کو پورا نہیں کرتا اور اپنے اندر پاک تبدیلی جو بیعت کا اصل مقصد ہے نہیں کرتا وہ اپنے لیے وبال جان ہوجاتا ہے۔ہاں کامل الایمان اکسیر ہے۔اس کے ساتھ فرقان رکھا جاتا ہے۔اگر یہ امتیاز نہ ہوتا تو دنیا تباہ ہوجاتی اور خدا تعالیٰ پر ایمان مشکل ہوجاتا۔اس قسم کے نشانوں سے ہی اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان پیدا ہوتا ہے۔احمدی جماعت اور طاعون اب میں پھر اس اعتراض کی طرف توجہ کرتا ہوں جو کہتے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے بعض آدمی طاعون سے مَرے ہیں۔اس بات کو خوب غور سے یاد رکھو کہ صحابہؓ میں سے جو بعض طاعون سے شہید ہوئے وہ ان کے لیے عذاب نہ تھی بلکہ صحابہؓ کا گروہ بڑھا اور ان کے لیے موجب شہادت ہوئی۔دوسروں کے لیے وہی طاعون تباہی اور بربادی کا باعث ہوئی۔یہی فرق ہے اگر کسی مومن کو طاعون ہو جاوے وہ اس کے لیے شہادت ہے اور دوسروں کے لیے تباہی کا موجب۔بایں ہمہ جیسا میں نے پہلے بیان کیا ہے مومن اور غیر مومن میں ایک اَمر فارق ہوتا ہے۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی مومن کے ساتھ ایسے معاملات ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کو ایک بیّن امتیاز عطا کرتا ہے اور اس کو تباہ کرنا نہیں چاہتا۔اس کی وہی مثال ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر بھی مصیبت آتی ہے اور دوسروں پر بھی جو ان کے مخالف ہوتے ہیں۔انبیاء علیہم السلام بڑھتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں اور دوسرے تباہ اور ذلیل ہوتے ہیں۔پس دہریوں کی طرح دھوکا مت کھاؤ۔وہاں اور رنگ ہے اور یہاں اور رنگ ہے۔