ملفوظات (جلد 6) — Page 282
جب وہ ثابت قدم نکل آتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان سے وہی سنّت برتتا ہے جو کہ منعم علیہ گروہ سے برتنی چاہیے۔خدا سے زیادہ پیار اور رحم اور محبت کرنی کوئی نہیں جانتا۔لیکن اخلاص ضروری ہے۔کوئی دل سے اس کا ہو۔پھر دیکھے کہ آیا مخلص کی دست گیری اور کفالت اس کی خوبی ہے کہ نہیں لیکن جو اسے آزماتا ہے وہ خود آزمایا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اسلام لایا۔بعد ازاں اندھا ہوگیا اور کہنے لگا کہ اسلام قبول کرنے سے یہ آفت مجھ پر آئی ہے۔اس لیے کافر ہوگیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہت سمجھایا لیکن نہ مانا حالانکہ اگر وہ مسلمان رہتا تو خدا تو اس بات پر قادر تھا کہ اسے دوبارہ بینائی بخش دیتا لیکن کافر ہو کر دنیا سے تو اندھاتھا دین سے بھی اندھا بن گیا۔مجھے فکر ہے کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو کہ خدا کو آزماتے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ وہ خود آزمائے جاویں۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو مجھ پر ایمان لاوے اوّل وہ مصائب کے لیے تیار رہے مگر یہ سب کچھ اوائل میں ہوتا ہے۔اگر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر فضل کر دیتا ہے کیونکہ مومن کے لیے دو حالتیں ہیں۔اوّل تو یہ کہ جب ایمان لاتا ہے تو مصائب کا ایک دوزخ اس کے لیے تیار کیا جاتا ہے جس میں اسے کچھ عرصہ رہنا پڑتا ہے اور اس کے صبر اور استقلال کا امتحان کیا جاتا ہے اور جب وہ اس میں ثابت قدمی دکھاتا ہے تو دوسری حالت یہ ہے کہ اس دوزخ کو جنت سے بدل دیا جاتا ہے جیسے کہ بخاری میں حدیث ہے کہ مومن بذریعہ نوافل کے اللہ تعالیٰ سے یہاں تک قرب حاصل کرتا ہے کہ وہ اس کی آنکھ ہوجاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے اور کان ہوجاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں ہوجاتا ہے جس سے وہ چلتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کی زبان ہوجاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہےا ور ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْـحَرْبِ کہ جو شخص میرے ولی کی عداوت کرتا ہے وہ جنگ کے لیے تیار ہو جاوے۔اس قدر غیرت خدا کو اپنے بندے کے لیے ہوتی ہے۔پھر دوسری جگہ فرماتا ہے کہ مجھے کسی شَے میں اس قدر تردّد نہیں ہوتا جس قدر کہ مومن