ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 185

ہے اور اس کے دورے تو ستّر ستّر سال تک ہوتے ہیں۔وہ منتظر رہیں اور دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ہم بھی ان کےساتھ انتظار کرتے ہیں۔وہ ہماری نسبت اگر کوئی خبر خدا سے پاچکے ہیں تو شائع کر دیں۔ہم کو تو جو کچھ خدا نے بتایا ہے ہم نے تو اس کو شائع کر دیا ہے اور دنیا کو معلوم ہوگیا ہے۔وہ صبر کے ساتھ اب انجام تک دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔یہ لوگ ہماری نسبت طرح طرح کی گردشیں چاہتے ہیں۔وہ آخر ان پر ہی لوٹ کر پڑتی ہیں۔ایک بٹالوی مولوی نے ایک مرتبہ کہا کہ قادیان میں طاعون پڑی ہوئی ہے اور خود اُن کو بھی گلٹی نکلی ہوئی ہے۔یہ ان کی امانی ہیں۔کیا گلٹی اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر نکل سکتی ہے؟ جب تک آسمان پر ایک تغیّر نہ ہو زمین پر کچھ نہیںہو سکتا۔ان دنوں جب قادیان میں طاعون پڑی ہوئی تھی ہم خدا تعالیٰ کی قدرت کا عجیب نظارہ دیکھ رہے تھے۔ہمارے گھر کے ادھر ادھر سے چیخیں آتی تھیں اور ہمارا گھر درمیان میں اس طرح تھا جیسے سمندر میں کشتی ہوتی ہے۔اُس نے محض اپنے فضل و کرم سے اسے محفوظ رکھا جیسا اس نے فرمایا تھا اور آئندہ بھی ہم اس کے فضل و کرم سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ ہماری حفاظت فرمائے گا۔ہندوؤں کے ہاتھ سے پکا ہوا کھانا اس کے بعد ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا ہندوؤں کے ہاتھ کا کھانا درست ہے؟ فرمایا۔شریعت نے اس کو مباح رکھا ہے۔ایسی پابندیوں پر شریعت نے زور نہیں دیا بلکہ شریعت نے تو قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا(الشّمس: ۱۰) پر زور دیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آرمینیوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں کھا لیتے تھے اور بغیر اس کے گذارہ بھی تو نہیں ہوتا ہے۔تسبیح شماری ایک شخص نے تسبیح کے متعلق پوچھا کہ تسبیح کرنے کے متعلق حضور کیا فرماتےہیں؟ فرمایا۔تسبیح کرنے والے کا اصل مقصود گنتی ہوتا ہےا ور وہ اس گنتی کو پورا کرنا چاہتا ہے۔اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ یا تو وہ گنتی پوری کرے اور یا توجہ کرے اور یہ صاف بات ہے کہ گنتی کو پوری کرنے کی فکر کرنے والا سچی توبہ کر ہی نہیں سکتا ہے۔انبیاء علیہم السلام اور کاملین لوگ