ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 131

دیکھ سکتیں جب تک روشنی نہ ہو اور کان نہیں سن سکتے جب تک ہوا نہ ہو پس اس سے سمجھنا چاہیے کہ جو کچھ دیا گیا ہے جب تک آسمانی تائید اس کے ساتھ نہ ہو تب تک تم محض بے کار ہو۔ایک بات کو تم کتنے ہی صدقِ دل سے قبول کرو مگر جب تک فضلِ الٰہی شاملِ حال نہیں تم اس پر قائم نہیں رہ سکتے۔احمدیت بیعت توبہ اور بیعت تسلیم جو تم نے آج کی ہے اور اس میں جو اقرار کیا ہے اسے سچے دل سے بہت مضبوط پکڑواور پختہ عہد کرو کہ مَرتے دم تک تم اس پر قائم رہو گے سمجھ لو کہ آج ہم نفس کی خودرویوں سے باہر آگئے ہیں اور جو جو ہدایت ہو گی اس پر عمل کرتے رہیں گے۔ہم کوئی نئی ہدایت یا نیا دین یا نیا عمل نہیں لائے ہدایت بھی وہی ہے دین بھی وہی ہے عمل بھی وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دے گئے ہیں کوئی نیا کلمہ تم کو تلقین نہیں کیا جاتا اور نہ کوئی نیا خاتم النّبییّن بنایا جاتا ہے ہاں اس پر سوال ہوتا ہے کہ جب نئی بات کوئی نہیں تو پھر فرق کیا ہوا اور ایک جماعت کیوں طیار ہو رہی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا نے جو ارادہ کیا تھا کہ وہ ایک مسیح موعود بناکر بھیجے گا اور وہ اس وقت آوے گا جب کہ دنیا سخت تا ریکی میں ہو گی ہر طرف سے کفر کے حملے ہوں گے اسلام کو ہرایک پہلو سے نقصان پہنچانے کی کوشش ہو گی تواس کے آنے کے دو فائدے ہوں گے۔ایک فائدہ تو یہ ہے کہ یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ اسلام بد عات سے پورا حصّہ لے چکا ہے ہر ایک بدعت (تیسری) صدی (ہجری) سے شروع ہو کر چودھویں صدی تک کمال کو پہنچ گئی اور پوری دجالی صورت پیدا ہو گئی ہے۔حدیثیں بلند آواز سے اس زمانہ کی نسبت خبر دے رہی ہیں جیسے ایک حمل کی مدّت نوماہ ہوتی ہے اس مناسبت سے تیسری صدی کے بعد جیسے نوصد سال گذرگئے تو خدا نے ایک مامور کو مبعوث کیا کہ ان بدعات اور مفاسد کو دور کرے کیونکہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فر مودہ کے مطابق لَیْسُوْا مِنِّیْ وَلَسْتُ مِنْھُمْ کے مصداق ہو گئے تھے اور اسلام کاصرف نام ہی نام ان کی زبانوں پر رہ گیا تھا جیسے ایک باغ کے عمدہ عمدہ بو ٹوں کو دوسرے خراب بوٹے اور گھاس وغیرہ پیدا ہو کر دبا لیتے ہیں ایسے ہی ردّی گھاس اور بوٹے اسلام کے باغ میں ہوگئے تھے اور اس کا حقیقی نشوونما اورآب وتاب بالکل جاتی رہی تھی۔مکّار درویش، گدی نشین اور فقیر وغیرہ اس ردّی گھاس کی طرح ہیں