ملفوظات (جلد 6) — Page 129
صحابہ کرامؓ کی مراتب شنا سی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مراتب پر گفتگو ہوتے ہوئے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو کچھ اسلام کا بنا ہے وہ اصحابِ ثلاثہ سے ہی بنا ہے۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے جوکچھ کیا ہے وہ اگرچہ کچھ کم نہیں مگر ان کی کارروائیوں سے کسی طرح صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خفت نہیں ہوسکتی کیونکہ کامیابی کی پٹری(بنیاد) تو صدیق اکبرؓ نے ہی جمائی تھی اور عظیم الشان فتنہ کو انہوں نے ہی فرو کیا تھا ایسے وقت میں جن مشکلات کا سامنا حضرت ابو بکرؓ کو پڑا وہ حضرت عمرؓ کو ہرگز نہیں پڑا۔پس صدیقؓ نے رستہ صاف کر دیا تو پھر اس پر عمرؓ نے فتوحات کا دروازہ کھولا۔آخر عمر میں ایمان سلامت لے جانے کے لیے نہ علم کی ضرورت ہے اور نہ کسی اَور شَے کی۔استغفار بہت کرنی چاہیے اورنماز میں، اٹھتے بیٹھتے ،ہر حال میں دعا میں مصروف رہنا چاہیے۔اسلام اس بات کا نام ہے کہ قرآن شریف کی اِ تباع سے خدا کو راضی کیا جاوے۔۱ ۲۹؍مارچ ۱۹۰۴ء باہر سے آنے والوں کا حق چند ایک احباب بیرون جات سے آئے ہوئے تھے اور حضرت اقدس کے قریب بیٹھنے کے لیے ایک دوسرے پر گرے پڑے تھے کہ حضرت اقدسؑ نے قادیانی احباب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ ان لوگوں کو جگہ دو۔نئے آدمیوں کی تو خدا تعالیٰ نے اوّل ہی سے سفارش کر رکھی ہے جیسے براہین میں یہ الہام موجود ہے کہ کثرت سے لوگ تیرے پاس آویں گے توان سے تنگ دل نہ ہو نا۔استقامت بعد ازاں چند احباب نے بیعت کی جس پر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذیل کی تقریر ایک ایسے شخص کے سوال پر فرمائی جس نے حضور سے استقامت کے لیے ۱ البدر جلد ۳ نمبر ۱۵ مورخہ ۱۶؍ اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۳