ملفوظات (جلد 5) — Page 65
اگرچہ آنحضرتؐکی اُمّت میں ہزاروں بزرگ نبوت کے نور سے منور تھے اورہزاروںکو انوارِ نبوت کا حصہ عطا ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہوتا ہے مگر چونکہ آنحضرتؐکا نام خاتم الانبیاء رکھا گیا تھا اس لیے خدا نے نہ چاہا کہ کسی دوسرے کو بھی یہ نام دے کر آپ کی کسرِ شان کی جاوے۔آنحضرتؐکی اُمّت میں سے ہزار ہا انسانوں کو نبوت کا درجہ ملا اور نبوت کے آثار اور برکات ان کے اندر موجزن تھے مگر نبی کا نام ان پر صرف شانِ نبوت آنحضرتؐاور سدِّبابِ نبوت کی خاطر ان کو اس نام سے ظاہر اً ملقب نہ کیا گیا۔۱ مگر دوسری طرف چونکہ آنحضرتؐکے فیوض اور رُوحانی برکات کا دروازہ بند بھی نہ کیا گیا تھا اور نبوت کے انوار جا ری بھی تھے جیسا کہ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (الاحزاب:۴۱) سے نکلتا ہے کہ آنحضرتؐکی مُہر اور اذن سے اور آپ کے نور سے نُورِنبوت جاری بھی ہے اور یہ سلسلہ بند بھی نہیں ہوا۲ یہ بھی ضروری تھا کہ اسے ظاہراً بھی شائع کیا جاوے تاکہ موسوی سلسلے کے نبیوں کے ساتھ آپ کی اُمّت کے لوگ بھی مماثلت کے پورا کرنے میں صاف طور سے نبی اللہ کالفظ فرما دیا اور اس طرح سے دونوں امور کا لحاظ نہایت حکمت اور کمال لطافت سے رکھ لیا گیا۔ادھر یہ کہ آنحضرتؐکی کسرِ شان بھی نہ ہو اور اُدھر موسوی سلسلے سے مماثلت بھی پوری ہوجاوے۔تیرہ سو برس تک نبوت کے لفظ کا اطلاق تو آپؐکی نبوت کی عظمت کے پاس سے نہ کیا اور اس کے بعد اب مدت دراز کے گذرنے سے لوگوں کے چونکہ اعتقاد اس اَمر پرپختہ ہوگئے تھے کہ آنحضرتؐہی خاتم الانبیاء ہیں اور اب اگر کسی دوسرے کا نام نبی رکھا جاوے تو اس سے آنحضرت کی شان میں کوئی فرق بھی نہیں آتا اس واسطے اب نبوت کا لفظ مسیح کے لیے ظاہراً بھی بول دیا۔یہ ٹھیک اسی طرح سے ہے جیسے آپؐنے پہلے فرمایا تھا کہ قبروں کی زیارت نہ کیا کرو اور پھر فرما دیا تھا کہ اچھا اب کر لیا کرو۔پہلے منع کرنا بھی حکمت رکھتا تھا کہ لوگوں کے خیالات ابھی تازہ تازہ بت پرستی سے ہٹے تھے تا پھر وہ اسی عادت کی طرف عود نہ کریں۔پھر جب دیکھا کہ اب ان کے ایمان کمال کو پہنچ گئے ہیں اور کسی قسم کے شرک و بدعت کو ان کے ایمان میں راہ نہیں تو اجازت دے دی۔بالکل اسی طرح یہ اَمر ہے۔پہلے تیرہ ۱۳۰۰سو برس اس عظمت کے واسطے نبوت کا لفظ نہ بولااگر چہ صفتی رنگ میں صفتِ نبوت اور انوارِ نبوت موجود تھے اور حق تھا کہ ان لوگوں کو نبی کہا جاوے مگر خاتم الانبیاء کی نبوت کی عظمت کے پاس کی وجہ سے وہ نام نہ دیا گیا۔مگر اب وہ خوف نہ رہا تو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے واسطے نبی اللہ کا لفظ فرمایا۔آپ کے جانشینوں اور آپ کی اُمّت کے خادموں پر صاف صاف نبی اللہ بولنے کے واسطے دو اُمور مدِّ نظر رکھنے ضروری تھے۔اوّل عظمت آنحضرتؐاور دوم عظمتِ اسلام۔سو آنحضرتؐکی عظمت کے پاس کی وجہ سے ان لوگوں پر ۱۳۰۰ برس تک نبی کا لفظ نہ بولا گیا تاکہ آپ کی ختم نبوت کی ہتک نہ ہو کیونکہ اگر آپؐکے بعد ہی آپ کی امت کے خلیفوں اور صلحاء لوگوں پر نبی کا لفظ بولا جانے لگتا جیسے حضرت موسیٰ کے بعد کے لوگوں پر بولا جاتا رہا تو اس میں آپ کی ختم نبوت کی ہتک تھی اور کوئی عظمت نہ تھی سو خدا نے ایسا کیا کہ اپنی حکمت اور لطف سے آپؐکے بعد ۱۳۰۰ برس تک اس لفظ کو آپ کی امت پر سے اٹھا دیا تا آپ کی نبوت کی عظمت کا حق ادا ہو جاوے اور پھر چونکہ اسلام کی عظمت چاہتی تھی کہ اس میں بھی بعض ایسے افراد ہوں جن پر آنحضرت کے بعد لفظ نبی اللہ بولا جاوے اور تا پہلے سلسلہ سے اس کی مماثلت پوری ہو۔آخری زمانہ میں مسیح موعود کے واسطے آپ کی زبان سے نبی اللہ کا لفظ نکلوادیا اور اس طرح پر نہایت حکمت اور بلاغت سے دو متضاد باتوں کو پورا کیا اور موسوی سلسلہ کی مماثلت بھی قائم رکھی اور عظمت اور نبوت آنحضرتؐبھی قائم رکھی۔۱ عورت نبیّہ نہیں ہوسکتی سوال۔کیا کوئی عورت نبیّہ ہوسکتی ہے؟ فرمایا۔نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ (النسآء:۳۵) اور وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ (البقرۃ: ۲۲۹) عورتیں اصل میں مَردوں کی ہی ذیل میں ہوا کرتی ہیں۔جب صاحبِ درجہ اور صاحبِ مرتبہ کے واسطے ایک دروازہ بند کردیا گیا تو یہ بیچاری ناقصات العقل کس حساب میں ہیں؟ ۲ ۱۶؍اپریل ۱۹۰۳ء ایک نیا نکتہ بعد از نماز مغرب حضرت اقدس ؑ نے اس تقریر کا اعادہ فرمایا جو کہ مورخہ ۱۵ ؍اپریل کی سَیر میں درج ہوچکی ہے اس کی تکمیل میں ایک نئی بات یہ ذکر فرمائی کہ اس وقت میں اُمت موسوی کی طرح جو مامور اور مجدّدین آئے ان کا نام نبی ۳ رکھا گیا تو اس میں یہ حکمت تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ختمِ نبوت میں فرق نہ آوے (جس کا مفصل ذکر قبل ازیں گذر چکا ہے)اور اگر کوئی نبی نہ آتا تو پھر مماثلت میں فرق نہ۱ آتا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدم، ابراہیم، نوح اور موسیٰ وغیرہ میرے نام رکھے حتی کہ آخر کار جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَ نْبِیَآءِ کہا۔گویا اس سے سب اعتراض رفع ہوگئے اورآپ کی اُمت میں ایک آخری خلیفہ ایسا آیا جو موسیٰ کے تمام خلفاء کا جامع تھا۔۲