ملفوظات (جلد 5) — Page 343
خارقِ عادت امور کا مشاہدہ فرمایا کہ اسی طرح ہم ہر ایک خوارقِ عادت اَمر پر ایمان لاتے ہیں اور اس اَمر کی ضرورت نہیں کہ اُس کی تفصیل بھی معلوم ہو۔بعض وقت ایک آواز آتی ہے لیکن کوئی کلام کرنے والا معلوم نہیں ہوتا۔اس وقت حیرانی ہوتی ہے تو اس وقت کیا کیا جاوے؟آخر ایمان لانا پڑتا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ ایسے اُمور میں آکر انسان کو عرفان سے پھر ایمان کی طرف عود کرنا پڑتا ہے۔حال میں ایک اخبار میں دیکھا گیا کہ ایک شخص نے کہا کہ میں نے ایک ایسی ہانڈی کا پکا ہوا سالن کھایا ہے جو کہ میری پیدائش سے تیس برس پیشتر کی پکی ہوئی تھی۔جب انسان ہواوغیرہ سے محفوظ رکھ کر ایک شَے کو اس قدر عرصہ دراز سے محفوظ رکھ سکتا ہے تو اگر خدا رکھے تو کیا بعید ہے۔اگر یہ لوگ خوارقِ عادت کی جزئیات پر اعتراض کرتے ہیں تو ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے تو شاید ۳۰۰ معجزات ہوں گے۔ہم ان کے ایسے لاکھوں خوارقِ عادت پیش کرکے اعتراض کرسکتے ہیں ان کا کیا جواب دیں گے؟ ہم تو ان باتوں کو ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی قدرت کے تصرّفات دیکھتے ہیں۔یہ کہاں تک اعتراض کریں گے خدا شناسی کا مزا یہی ہے کہ ہر ایک قسم کی قدرت کا جلوہ نظر آوے۔آریوں کی حالت آریوں کے خدا کی مثال تو ایسی ہے جیسے کہ کسی کے ہاتھ میں ہڈی ہوتی ہے خدا کی قدرتوں پر ان کو ایمان نہیں ہے اور جب یہ نہ ہوا تو پھر اس سے نہ خوف ہوانہ طمع نہ محبت نہ عبادت۔ان کے لیے یہ جواب کافی ہے کہ جیسے ایک اندھے آدمی کے نزدیک ہرایک رئویت قابلِ اعتراض ہوتی ہے ویسے ہی وہ بھی ان باتوں کے محسوس کرنے سے معذور ہیں کیونکہ ہر ایک شَے کی حِس الگ الگ ہے۔جیسے آنکھ کی حِس ہے۔تو اس سے کان کوئی فائدہ نہیں پا سکتا اور ناک کی حِس کو آنکھ نہیں شناخت کرسکتی ایسے ہی ایک انسان جو کہ اعلیٰ قسم کے قویٰ لے کرآیا ہے اور اسے امور مَا وراء العقل کو محسوس کرنے کی قوت دی گئی ہے تو جو وہ دیکھتا ہے اگر دوسرے نہ دیکھیں تو سوائے اعتراض کے اور کیا کرسکتے ہیں؟آریوں کی مشابہت اس شخص سے ہوسکتی ہے جس کی ایک آنکھ یا کان نہ ہو اور وہ دوسرے کی آنکھ کان دیکھ کر اعتراض کرے۔وہ لوگ