ملفوظات (جلد 5) — Page 272
جو کہ اس سے پیشتر اسمائے باری تعالیٰ میں کبھی نہیں آیا۔۱،۲ بلا تاریخ فرمایا۔بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ فلاں فلاں مقام پر کیوں طاعون نہ آئی یہ ان کی غلطی ہے۔اصل علامت اس زمانہ کی جس میں مسیح اور مہدی نے آنا ہے طاعون ہے اس میں یہ شرط کوئی نہیں لکھی کہ وہ ضرور ہر جگہ پڑے۔جس شخص کو ہمارا علم ہوگا وہ تو فائدہ اٹھائے گا مگر یہ ضرور نہیں کہ ہر ایک کو ہمارا علم ہو ممکن ہے کہ بعض مقامات ایسے ہوں کہ ابھی تک ان کو اس اَمر کی خبر بھی نہیں کہ ہمارا یہ دعویٰ ہے۔خدا تعالیٰ کا کلام ایک ایک لفظ سچا ہے اور خدا تعالیٰ متقین کے ساتھ ہوتا ہے۔بڑی نشانی ہماری صداقت کی یہ ہے کہ ایک دنیا ہماری مخالفت میں ہو اور بلحاظ مال و زر و تعداد کے وہ ہم سے بڑھ چڑھ کر ہوں مگر پھر ان کو کامیابی نصیب نہ ہو اور ہم غالب ہو جاویں۔یہ بات پیشگوئی کے رنگ میں پوری ہوتی ہے۔اور اگر پیشگوئی نہ بھی ہوتی تو بھی یہ معرکہ تعجب انگیز تھا کہ باوجود اس کثرت کے اور جوش کے مخالفوں کی کُل بندوقیں خطا جاویں۔مگر ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ اس علیم اور خبیر خدا تعالیٰ نے اوّل ہی بتلا دیا تھا کہ باوجود اس قدر مخالفت اور تمام باتوں کے یہ جماعت بڑھ جاوے گی۔موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ بن جانا اس زمانہ کے لحاظ سے ایک راز تھا ورنہ اسی طرح کے تماشہ تو آج کل ہوتے ہیں اور جب تک کہ کسی کو خود نہ بتلایا جاوے تب تک وہ انسان تعجب میں رہتا ہے اسی طرح سے وہ معاملہ ایک تھوڑے زمانہ کا اعجاز تھا اب اس کی حقیقت کیا سمجھ میں آسکتی ہے مگر اس وقت ایک وسیع وقت لوگوں کو دیا گیا ہے کہ وہ خوب سوچیں اور سمجھیں۔ایک طرح سے ہمارے مخالف قابلِ رحم بھی ہیں انہوں نے اپنی ہانڈی سب پکالی مگروہ سڑ گئی لیکن ۱ الحکم میں ہے۔’’اللہ تعالیٰ کے اسم رفیق کے استعمال کا یہ جدید اسلوب ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۳۶ مورخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵) ۲ البدر جلد ۲ نمبر ۳۵ مورخہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۸۰