ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 6

ہے۔خدا وعدہ فرماتا ہے کہ وہ اسے ہرمشکل سے بچالے گا اور پھر آگے ہے يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق:۴) یعنی ایسی راہ سے اسے روزی دے گا کہ اس کے گما ن میں بھی وہ نہ ہو گی۔ایسے ہی دوسرے مقام پر ہے وَ هُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ (الاعراف:۱۹۷) جیسے ماں اپنی اولاد کی والی ہوتی ہے ویسے ہی وہ نیکوں کا والی ہوتا ہے پھرفر ما تا ہے وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ (الذّٰریٰت:۲۳) یعنی جوکچھ تم کو وعدہ دیا گیا ہے اور تمہارا رزق آسمان پرہے۔جب انسان خدا پرسے بھروسا چھوڑتا ہے تودہریت کی رگ اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔خدا پر بھروسہ اور ایمان اس کا ہوتا ہے جواسے ہربا ت پرقادر جانتاہے۔اب ایسا زمانہ ہے کہ جو توبہ کرنا چاہتے ہیں خدا ان باتوں کے لئے اپنے ہاتھوں سے ان کی مددکررہا ہے اس کی ذات رحمت سے بھری ہوئی ہے طاعون کے حملے بہت خوفناک ہوتے ہیں مگر اصل میں یہ رحمت ہے سختی نہیں ہے۔ہزاروں لوگ ہوںگے جوکہ عبادت سے غافل ہوں گے۔اگر اتنی حشپم نمائی خدا نہ کرے توپھرتولوگ بالکل ہی منکرہو جاویں۔یہ تواس کا فضل ہے کہ سوئے ہوؤںکو ایک تازیا نہ سے جگا رہا ہے ورنہ اسے کیاپڑی ہے کہ کسی کوعذاب دیوے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے مَايَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ(النّسآء:۱۴۸) کہ اگر تم میری راہ اختیار کروتو تم کو کیوں عذاب ہو۔اس کی رحمت بہت وسیع ہے جیسے بچہ جب پڑھتا نہیں ہے تو اسے مارپڑتی ہے اس کا سِرّیہی ہے کہ اس کی آئندہ زندگی خرا ب نہ ہو اور وہ سدھرجاوے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ یہ عذاب اس لیے دیتا ہے کہ لوگ سدھرجاویں اور یہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے۔سچی توبہ کرو۔بھلا دیکھوتوسہی اگربازار سے کوئی دوامثل شربت بنفشہ کے تم لاؤاور اصل دواتم کو نہ ملے بلکہ سڑاہواپرانا شیراتم کو دیا جاوے تو کیا وہ بنفشہ کے شربت کا کام دے گا؟ ہرگزنہیں اسی طرح سڑے ہوئے الفاظ جو زبان تک ہوں اور دل قبول نہ کرے وہ خدا تک نہیں پہنچتے۔بیعت کرانے والے کو تو ثواب ہو جاتا ہے مگر کرنے والے کوکچھ حاصل نہیں ہوتا۔