ملفوظات (جلد 4) — Page 323
غَفَرْتُ لَکَ۔اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اب اس کی فطرت ایسی بدل دی گئی ہے کہ گناہ نہ ہوسکے گاجیسے کسی بدکا رکا آلہ تنا سل کا ٹ دیا جاوے تو پھر وہ کیا بد کا ری کرسکے گا یا آنکھیں نکال دی جاویں تو وہ کیا بدنظری کرے گا اسی طرح خدا سرشت بدل دیتا ہے اور بالکل پا کیزہ فطرت بنا دیتا ہے۔بدر میں جب صحابہ کرام نے جان لڑائی تو ان کی اس ہمّت اور اخلاص کو دیکھ کر خدا نے ان کو بخش دیا۔ان کے دلوں کو صاف کردیا کہ پھر گناہ ہو ہی نہ سکے۔یہ بھی ایک درجہ ہے جب فطرت بدل جاتی ہے تو وہ خدا کی رضا کے بر خلاف کچھ کر ہی نہیں سکتا۔اگر انسان سے گناہ نہ ہوں اور وہ توبہ نہ کرے تو خدا ان کوہلاک کرکے ایک ایسی قوم پیدا کرے جو گناہ کرے اور پھر خدا ان کو بخشے اگر یہ نہ ہو تو پھر خدا کی صفت غفوریّت کیسے کام کرے گی۔گناہ توبہ کے ساتھ مل کر تر یا ق بنتا ہے گناہ ایک مہلک زہر مثل سم الفار و سڑکنیا وغیرہ کے ہیں مگر توبہ کے ساتھ مل کر یہ تریاق کا حکم رکھتے ہیں انسان کے نفس کے اندر رعونت پیدا ہو جاتی ہے پھر گناہ سے کسر نفس پیدا ہو جاتی ہے۔جیسے زہر کو زہر مارتی ہے ایسا ہی رعونت وغیرہ کی زہر کو گناہ ما رتا ہے۔حضرت آدم کے ساتھ جو ذلّت آئی اس کے بھی یہی معنے ہیں ورنہ اس کے اندر تکبر پیدا ہوتا کہ میں وہ ہوں جسے خدا نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور ملائکہ نے سجدہ کیا مگر اس خطا سے وہ شرمسا رہوئے اور اس تکبر کی نوبت ہی نہ آئی۔پھر اس شرمساری سے سارے گناہ معاف ہوئے اسی طرح بعض سادات آج کل فخر کرتے ہیں مگر نسبی دعویٰ کیا شَے ہے؟ اس سے رعونت پیدا ہوتی ہے۔ہر ایک تکبر زہر قاتل ہوتا ہے اسے کسی نہ کسی طرح ما رنا چاہیے۔آدم کی جنّت سوال ہوا کہ آدم کی جنّت کہاں تھی؟ فرمایا۔ہمارا مذہب یہی ہے کہ زمین میں ہی تھی خدا فرماتا ہے مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ (طٰہٰ:۵۶)آدم کی بودوبا ش آسمان پر یہ بات بالکل غلط ہے۔شجر ممنوعہ شجرکی نسبت سوال ہواکہ وہ کون سا درخت تھا جس کی ممانعت کی گئی تھی؟ فرمایا کہ مفسّروں نے کئی باتیں لکھی ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ انگورہوگا۔شراب