ملفوظات (جلد 4) — Page 244
رات کی فضیلت فرمایا۔میں نہیں سمجھتا کہ رات اور دن میں فرق ہی کیا ہے۔صرف نورا ور ظلمت کا فرق ہے سو وہ نور تو مصنوعی بھی بن سکتا ہے بلکہ رات میں تو یہ ایک برکت ہے۔خدا نے بھی اپنے فیضان عطا کرنے کا وقت رات ہی رکھا ہے چنانچہ تہجد کا حکم رات کو ہے۔رات میں دوسری طرفوں سے فراغت اور کش مکش سے بے فکری ہوتی ہے اچھی طرح دلجمعی سے کام ہوسکتا ہے رات کو مُردہ کی طرح پڑے رہنا اور سونے سے کیا حاصل؟ انسان کی خوش قسمتی اگر ہوسکے تو دین کی خدمت کرنی چاہیے اس سے زیادہ خوش قسمتی اور کیا ہے کہ انسان کا وقت، وجود، قویٰ، مال، جان خدا کے دین کی خدمت میں خرچ ہو۔ہمیں تو صرف مرض کے دورہ کا اندیشہ ہوتا ہے۔ورنہ دل یہی کرتا ہے کہ ساری ساری رات کئے جاویں۔ہماری تو قریباً تمام کتابیں امراض وعوارض میں ہی لکھی گئی ہیں ازالہ اوہا م کے وقت میں بھی ہم کو خارش تھی۔قریباً ایک برس تک وہ مرض رہاتھا۔منشّی اشیا کا استعما ل عمر کو گھٹا دیتا ہے اللہ اللہ۔کیا ہی عمدہ قر آنی تعلیم ہے کہ انسان کی عمر کو خبیث اور مضر اشیاء کے ضرر سے بچا لیا۔یہ منشّی چیزیں شراب وغیرہ انسان کی عمر کو بہت گھٹا دیتی ہیں۔اس کی قوت کو برباد کر دیتی ہیں اور بڑھاپے سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہیں۔یہ قرآنی تعلیم کا احسان ہے کہ کروڑوں مخلوق ان گناہ کے امراض سے بچ گئے جو ان نشہ کی چیزوں سے پیدا ہوتی ہیں۔قادیان کے آریہ سماج کے جلسہ پر جو آریہ آئے تو ان کی گندہ دہنوں اور گالی گلو چ کا کسی نے حضرت ا قد س کی خدمت میں ذکر کیا۔زبان کی تہذیب کا ذریعہ فرمایا کہ انسانی زبان کی چُھری تو رک سکتی ہی نہیں جب خدا کاخو ف کسی دل میں نہ ہو۔انسانی زبان کی بے با کی اس اَمر کی دلیل ہے کہ اس کا دل سچے تقویٰ سے محروم ہے۔زبان کی تہذیب کا ذریعہ صرف خوفِ الٰہی