ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 114

میں ہمیشہ انکساری اور گمنامی کی زندگی پسند کرتا ہوں کم فہم لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ میں اپنے مدارج کو حدسے بڑھاتا ہوں۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میری طبیعت اور فطرت میں ہی یہ بات نہیں کہ میں اپنے لئے کسی تعریف کا خواہشمند پائوں اور اپنی عظمت کے اظہار سے خوش ہوں۔میں ہمیشہ انکساری اور گمنامی کی زندگی پسند کرتا رہا لیکن یہ میرے اختیار اور طاقت سے باہر تھا کہ خدا تعالیٰ نے خود مجھے باہر نکالا اور جس قدر میری تعریف اور بزرگی کا اظہار اس نے اپنے پاک کلام میں جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے کیا یہ ساری تعریف اور بزرگی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے۔احمق اس بات کو نہیں سمجھ سکتا مگر سلیم الفطرت اور باریک نگاہ سے دیکھنے والا دانشمند خوب سوچ سکتا ہے کہ اس وقت واقعی ضروری تھا کہ جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر ہتک کی گئی ہے اور عیسائی مذہب کے واعظوں اور منادوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ اُس سید الکو نین کی شان میں گستاخیاں کی ہیں اور ایک عاجز مریم کے بچے کو خدا کی کُرسی پر جا بٹھایا ہے۔اللہ تعالیٰ کی غیرت نے آپؐکا جلال ظاہر کرنے کے لیے یہ مقدر کیا تھاکہ آپ کے ایک ادنیٰ غلام کو مسیح ابن مریم بنا کے دکھا دیا۔جب آپ کی اُمّت کا ایک فرد اتنے بڑے مدارج حاصل کرسکتا ہے تو اس سے آپ کی شان کا پتا لگ سکتا ہے۔پس یہاں خدا تعالیٰ نے جس قدر عظمت اس سلسلہ کی دکھائی ہے اور جو کچھ تعریف کی ہے یہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی عظمت اور جلال کے لیے ہے مگر احمق ان باتوں سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ظہو ر علاماتِ مسیح موعود ؑ اس وقت صدی میں سے بیس سال گذرنے کوہیں اور آخری زمانہ ہے چودھویں صدی ہے کہ جس کی بابت تمام اہلِ کشف نے کہا کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا وہ تمام علامات اور نشانات جو مسیح موعود کی آمد کے متعلق پہلے سے بتائے گئے تھے ظاہر ہوگئے۔آسمان نے کسوف وخسوف سے اورزمین نے طاعون سے شہادت دی ہے اور بہت سے سعادت مندوں نے ان نشانات کو دیکھ کر مجھے قبول کیا اور پھر اوربھی