ملفوظات (جلد 3) — Page 52
چلے آتے ہیں نہ زمانہ کا کوئی اثر اُن پر ہوا۔دوسری طرف مسلمانوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ بیشک مسیح زندہ آسمان پر چلا گیا ہے اور دو ہزار برس سے اب تک اسی طرح موجود ہے۔کوئی تغیّر وتبدّل اس کی حالت اور صورت میں نہیں ہوا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مَر گئے۔میں سچ کہتا ہوں کہ میرا دل کانپ جاتا ہے، جب میں ایک مسلمان مولوی کے منہ سے یہ لفظ سنتا ہوں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مَر گئے۔زندہ نبی کو مُردہ رسول قرار دیا گیا۔اس سے بڑھ کر بے حرمتی اور بے عزّتی اسلام کی کیا ہوگی؟ مگر یہ غلطی خود مسلمانوں کی ہے جنہوں نے قرآن شریف کے صریح خلاف ایک نئی بات پیدا کرلی۔قرآن شریف میں مسیح کی موت کا بڑی وضاحت سے ذکر کیا گیا ہے، لیکن اصل میں اس غلطی کا ازالہ میرے ہی لیے رکھا تھا کیونکہ میرا نام خدا نے حَکم رکھا ہے۔اب جو اس فیصلہ کے لیے آوے وہی اس غلطی کو نکالے۔دنیا نے اس کو قبول نہ کیا پر خدا اُس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔اس قسم کی باتوں نے دنیا کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔مگر اب وقت آگیا ہے کہ یہ سب جھوٹ ظاہر ہو جاوے۔خدا تعالیٰ نے جس کو حَکم کر کے بھیجا اس سے یہ باتیں مخفی نہیں رہ سکتی ہیں۔بھلا دائی سے پیٹ چُھپ سکتا ہے۔قرآن نے صاف فیصلہ کر دیا ہے کہ آخری خلیفہ مسیح موعود ہوگا اور وہ آگیا ہے۔اب بھی اگر کوئی اس پر لکیر کا فقیر رہے گا جو فیجِ اعوج کے زمانہ کی ہے تو وہ نہ صرف خود نقصان اٹھائے گا بلکہ اسلام کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا جاوے گا اور حقیقت میں اس غلط اور ناپاک عقیدہ نے لاکھوں آدمیوں کو مرتد کر دیا ہے۔اس اصول نے اسلام کی سخت ہتک کی ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین۔جب یہ مان لیا کہ مُردوں کو زندہ کرنے والا، آسمان پر جانے والا، آخری انصاف کرنے والا یسوع مسیح ہی ہے تو پھر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو معاذاﷲ کچھ بھی نہ ہوئے حالانکہ اُن کو رَحْـمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن کہا گیا اور وہ کَافّۃَ النّاس کے لیے رسول ہو کر آئے۔خاتم النبیین وہی ہوئے۔ان لوگوں کا جنہوں نے مسلمان کہلا کر ایسے بیہودہ عقیدہ رکھے ہیں یہ بھی مذہب ہے کہ اس وقت جو پرندے موجود ہیں اُن میں کچھ مسیح کے ہیں اور کچھ خدا تعالیٰ کے۔نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذَالِکَ۔میں نے ایک بار ایک موحّد سے سوال کیا کہ اگر اس وقت دو جانور پیش کیے جاویں