ملفوظات (جلد 3) — Page 41
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو تعلق تَدَلّٰی کا تھا اس کی کیفیت کو اﷲ تعالیٰ جس قدر سمجھتا تھا اس کو کسی دوسرے نے ہرگز نہیں سمجھا۔نہ حضرت ابو بکرنے اُسے سمجھا نہ حضرت علی نے اور نہ کسی اور نے۔آپ کا انقطاعِ تام اور اﷲ تعالیٰ پر توکّل کرنا اور مخلوق کو مَرے ہوئے کیڑے سے ہیچ سمجھنا ایک ایسااَمر تھا جو دوسروں کو نظر نہ آسکتا تھا مگر خدا تعالیٰ کی تائیدوں کو دیکھ کر لوگ یہ نتیجہ ضرور نکالتے تھے کہ جیسا خدا تعالیٰ سے سچا اور قوی تعلق اُس نے پیدا کیا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ نے بھی اس سے کوئی فرق نہیں کیاہے۔قرآن کریم اور انجیل کی تعلیمات کاموازنہ کیسی عظیم الشّان بات ہے کہ آپ کو کوئی مقام ذلّت کا کبھی نصیب نہیں ہوا بلکہ ہر میدان میں آپ ہر طرح معزز و مظفر ثابت ہوئے ہیں لیکن بالمقابل اگر مسیح کی حالت کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُنہیں کیسی ذلّت پر ذلّت نصیب ہوئی ہے۔بسا اوقات ایک عیسائی شرمند ہ ہوجاتا ہوگا جب وہ اپنے اس خدا کی حالت پر غور کرتا ہوگا جو انہوںنے فرضی اور خیا لی طور پر بنایا ہواہے۔مجھے ہمیشہ تعجب اور حیرت ہوئی ہے کہ عیسائی اس تعلیم کو جو انجیل میں بیان ہوئی ہے اوراس خدا کو جس کے واقعات کسی قدر انجیل سے ملتے ہیں رکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اسے ترجیح کیوں کردیتے ہیں مثلاًیہی تعلیم ہے کہ ایک گا ل پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دو۔اب اس کے تمام پہلوؤں پر غور کر و تو صاف نظر آجائے گا کہ یہ کیسی بودی اور نکمّی تعلیم ہے۔بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اُن سے بچے خوش ہوجاتے ہیں بعض سے متوسط درجے کے لوگ او ربعض سے اعلیٰ درجہ کے لوگ۔انجیل کی تعلیم صرف بچوں کا کھلونا ہے کہ جس کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔کیا اللہ تعالیٰ نے جو انسان کو اس قدر قویٰ عطا فرمائے ہیں ان سب کاموضوع او ر مقصود یہی ہے کہ وہ طمانچے کھایاکرے؟ انسان انسان تب ہی بنتا ہے کہ وہ سارے قویٰ کو استعمال کرے، مگر انجیل کہتی ہے کہ سارے قویٰ کو بیکار چھوڑ دو اور ایک ہی قوت پر زور دیئے جائو۔بالمقابل قرآن شریف تمام قوتوں کامربی ہے او ربرمحل ہر قوت کے استعمال کی تعلیم دیتا ہے جیسا کہ مسیح کی اس تعلیم کے بجائے قرآن شریف فرماتا ہے جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ (الشّورٰی: ۴۱) یعنی بدی کی سزا تو اسی قدر بدی ہے مگر عفو بھی کرو تو