ملفوظات (جلد 3) — Page 406
انہوں نے کیمپ میں حاضر ہونا تھا۔ان کے اس اخلاص اور محبت پر فرمایا کہ باوجود یکہ فوجی نوکر ہیں مگر خدا نے دین کی محبت ڈال دی ہے صدق اور اخلاص لے کر آئے ہیں خدا ہر ایک کو یہ نصیب کرے۔سردرد کا علاج ایک صاحب نے اٹھ کر عرض کی کہ میرے سر میں درد رہتا ہے اور ہمیشہ گرمی میں تنگ کرتا ہے شام کو جب ٹھنڈ شروع ہوتی ہے تو آرام ہو جاتا ہے ورنہ تمام دن اور گرمی کے وقت مجھے سخت تکلیف رہتی ہے دعا فرمائی جاوے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ علاج بھی کیا ہے؟ اس نے کہا ہاں۔وہ ٹکیہ بھی کھائی ہیں جو کہ سر درد کے آرام کے لیے آج کل مشہور ہیں مگر فائدہ نہیں۔فرمایا کہ ہڈیوں کا شور بہ پیا کرو۔ہڈیاں ایسی لیں جن میں کچھ گوشت چمڑا ہو اس کو ابال کر شوربہ ٹھنڈا کرو کہ چربی جم جاوے۔اس چربی کو نکال دو۔یا ایک رومال پانی میں تَر کر کے شوربہ اس میں چھانو کہ چربی اس میں لگ جاوے اور خالص شوربہ رہے وہ پیا کرو اور ہم دعا بھی کریں گے۔صبر بھی ایک عبادت ہے پھر اس شخص نے عرض کی کہ میرے گاؤں میں ایک مولوی مدرسہ میں ملازم، سخت مخالف ہے اور مجھے بہت تکلیف دیتا ہے حضور دعا کریں کہ خدا اس کی تبدیلی وہاں سے کر دے۔حضرت اقدس نےا س مقام پر تبسّم فرمایا اور پھر اسے اس طرح سے سمجھایا کہ اس جماعت میں جب داخل ہوئے ہو تو اس کی تعلیم پر عمل کرو۔اگر تکالیف نہ پہنچیں تو پھر ثواب کیوں کر ہو۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں تیرہ برس دکھ اٹھائے تم لوگوں کو اس زمانے کی تکالیف کی خبر نہیں اور نہ وہ تم کو پہنچیں ہیں مگر آپ نے صحابہ کو صبر ہی کی تعلیم دی۔آخر کار سب دشمن فنا ہو گئے۔ایک زمانہ قریب ہے کہ تم دیکھو گے کہ یہ شریر لوگ بھی نظر نہ آویں گے۔اﷲ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ اس پاک جماعت کو دنیا میں پھیلاوے۔اب اس وقت یہ لوگ تھوڑے دیکھ کر دکھ دیتے ہیں مگر جب