ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 201

کامصداق ہو۔منطقی بات بدبُو دار ہوتی ہے کیونکہ اس میں نِرے دائو پیچ ہی ہوتے ہیں۔اس لیے منطقیانہ طریق کو چھوڑ کر عارفانہ تقریر کا پہلو اختیار کرنا چاہیے۔(دربارِ شام ) آج بعد عصر حضرت صاحبزادہ بشیرالدین محمود احمد سلّمہ اﷲالاحد کی برات رُوڑ کی سے واپس آئی تھی۔اس موقع پر ایڈیٹر الحکم نے اپنی احمدی جماعت کی طرف سے ایک مبارکباد کا خاص پر چہ شائع کیا جو برات کے دارالامان پہنچتے ہی شائع کیا گیا تھا۔واقعہ صلیب کے بعد مسیح کی زندگی کے متعلق پطرس کی شہادتقبل نما زمغرب جب حضرت جریُّ اﷲ فی حلل الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے تو روڑ کی سے آئے ہوئے احباب ملے جو برات میں گئے تھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے (جو حضرت اقدس کے سلسلہ میں ایک درخشندہ گوہر ہیں اور جو عیسائیوں کی کتابوں کو پڑھ کر ان میں سے سلسلہ عالیہ کے مفید مطلب مضامین کے اقتباس کرنے کا بے حد شوق اور جوش رکھتے ہیں) پطرس کے متعلق سنایا کہ روڑکی میں پادریوں سے مل کر میں نے اس سوال کو حل کیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ صلیب کے وقت پطرس کی عمر ۳۰ یا ۴۰ کے درمیان تھی۔ناظرین کو اس سوال ’’عمر پطرس کی ضرورت‘‘ کے لیے ہم الحکم کا وہ نوٹ یاد دلاتے ہیں جس میں ظاہر کیا گیا تھا کہ بعض کاغذات اس قسم کے ہیں۔جن میں پطرس لکھتا ہے کہ میں نے مسیح کی وفات سے تین سال بعد ان کو لکھا ہے۔اور اب میری عمر ۹۰ سال کی ہے۔گویا مسیح نے جب وفات پائی تو پطرس کی عمر ۸۷ سال کی ہوئی اور واقعہ صلیب کے وقت پطرس کی عمر تیس اور چالیس کے درمیان بتائی جاتی ہے تو اب اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ مسیح واقعہ صلیب کے بعد کم از کم ۴۷ سال تک بموجب اس تحریر کے زندہ رہا۔اور پطرس ان کے ساتھ رہا۔اور یہ ثابت ہو گیا کہ صلیب پر مسیح نہیں مَرا بلکہ طبعی موت سے مَرا ہے اور نہ آسمان پر اس جسم کے ساتھ اٹھایا گیا، کیونکہ راس الحواریین پطرس اس کی موت کا