ملفوظات (جلد 3) — Page 157
عدالت کر رہا ہے۔میں نے کہا کہ یہ تو معطّل ہوگیا ہے۔کسی نے کہا کہ اس جہاں میں معطّل نہیں ہوا۔تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ بحال ہو جائے گا۔چنانچہ اس کی اطلاع دی گئی اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ پھر بحال ہو گیا۔۲۔حَانَ اَنْ تُعَانَ ایسا ہی فَـحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ یہ پیشگوئی بھی وہیں موجود ہے۔کوئی ثابت کرے کہ اس الہام کے وقت کتنی جماعت تھی۔یا میں ہوتا تھا یا میاں شمس الدین جو براہین احمدیہ کے مسودے لکھا کرتا تھا مگر اب خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق لاکھوں کروڑوں انسانوں میں اس کو پورا کیا اور کر رہا ہے۔ہر نیا دن اس پیشگوئی کی شان اور عظمت کو بڑھا رہا ہے جوں جوں یہ سلسلہ ترقی کرتا جاتا ہے۔(خ) ۱۔خسوف وکسوف پھر خ ہے۔اس میں خسوف و کسوف کی عظیم الشّان پیشگوئی ہے۔اس کو دیکھو کہ تیرہ۱۳۰۰ سو برس کے بعد یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی کا نشان مقرر کیا تھا کہ اس کے وقت میں رمضان کے مہینہ خسوف اور کسوف ہوگا اور پھر یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ نشان ابتدائے آفرینش سے لے کر کبھی نہیں ہوا۔کس قدر عظیم الشّان نشان ہے جس کی نظیر آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تک اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مہدی کے وقت تک پائی نہیں جاتی۔اب مجھے جو دجّال اور کذّاب کہا جاتا ہے، کیا کاذب اور دجّال کے لیے ہی اﷲ تعالیٰ نے یہ نشان مقرر کیا تھا۔کیا خدا تعالیٰ کو بھی دھوکا لگ گیا کہ ایک تو مجھے صدی کے سر پر بھیجا اور پھر وہ تمام نشان اور علامات بھی قائم کر دیئے جو مسیح موعود اور مہدی معہود کے وقت کے مقرر تھے۔صلیب کا غلبہ بھی میرے وقت میں ہی ہو گیا۔اور پھر خسوف و کسوف کا نشان بھی پورا کر دیا۔اس قدر لمبا سلسلہ خدا نے دھوکے کا رکھا۔خدا تعالیٰ کی شان اس سے منزہ ہے کہ وہ کسی کو دھوکا دے۔مسلمانوں کی موجودہ حالت تو چاہتی تھی کہ