ملفوظات (جلد 3) — Page 155
جمع بَیْنَ الصَّلٰوتَین پھر ج ہی کی مد میں جمع بین الصلوٰتین کی پیشگوئی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے لیے ایک نشان ٹھہرایا ہے۔اس پیشگوئی کو پوراکرنا اختیاری اَمر نہیں ہے۔موت سر پر ہے۔خدا جو چاہتاہے کرتاہے۔وہ خود اس کی تکمیل کررہاہے۔جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو عزّت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت بھی نہیں کرتا ہے۔اس پیشگوئی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے کیونکہ لکھا ہے کہ تُـجْمَعُ لَہُ الصَّلٰوۃُ یعنی اس کے لیے نماز جمع کی جاوے گی۔ایسے امور جمع ہو جائیں گے کہ اس کے لیے نمازیں جمع کی جاویں گی یا ایسے امور جمع ہوجائیں گے کہ اس کے لئے نمازیں جمع کرنی پڑیں گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت جو میں اپنا اعتقاد رکھتا ہوں اس کومیں کسی کے دل میں نہیں ڈال سکتا۔میں ایک سچے مسلمان کے لیے یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ ان امور کے ساتھ جو آپ کی نبوت کے لیے بطور شہادت ہوں محبت کی جاوے۔ان میں سے یہ پیشگوئیاں بھی ہیں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کشفی کیسی تیز ہے۔اور آپ کی نگاہ کیسی دور تک پہنچنے والی تھی کہ آپؐنے سارا نقشہ اس زمانہ کا کھینچ کر دکھایا۔ہم اس پیشگوئی کو جو تُـجْمَعُ لَہُ الصَّلٰوۃُ ہے بہت ہی بڑی عزّت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس کے پورا ہونے پر ہمیں ایک راحت اور لذّت آتی ہے جو دوسرے کے آگے بیان نہیں کر سکتے کیونکہ لذّت خواہ جسمانی ہو،خواہ روحانی، ایک ایسی کیفیت اور اثر ہے جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے کمال درجہ کی عزّت اور صداقت ثابت ہوتی ہے کہ آپ نے جو کچھ فرمایا وہ پورا ہوا۔اب بتائو کہ کیا یہ امور جو جمع نماز کے موجب ہوئے ہیں خود ہم نے پیدا کر لیے ہیں یا خدا تعالیٰ نے یہ تقریب پیدا کر دی ہے؟ صحابہؓ نے اس پیشگوئی کو سنا مگر پوری ہوتے نہیں دیکھا اور اب جو پیشگوئی پوری ہوئی اور انہیں اس کی خبر ملتی ہے تو