ملفوظات (جلد 3) — Page 153
پھر اسی طرح جھنڈاسنگھ نامی ایک زمیندار کے ساتھ درخت کاٹنے کامقدمہ تحصیل میں دائرتھا۔مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہواکہ ڈگری ہو جائے گی۔جب کوئی دس بارہ دن ہوئے تو لوگوں نے جو بٹالہ سے آئے کہا کہ وہ مقدمہ خارج ہوگیا ہے اور خود اس نے بھی آکر بطور تمسخر کہا کہ مقدمہ خارج ہو گیا۔مجھے اس خبر کے سننے سے اتنا غم ہوا کہ کبھی کسی ماتم سے بھی نہیں ہوا۔میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ڈگری کی خبر دی تھی یہ کیا کہتے ہیں۔وہ اسامی تھے اور ہم مالک تھے اورمالک کی اجازت کے بغیر وہ درخت کاٹنے کے مجاز نہ تھے مختلف قسم کے پند۱۵رہ یا سو۱۶لہ آدمی اس مقدمہ میں تھے۔مجھے بہت ہی غم محسوس ہوا اور میں جیسے کوئی مبہوت ہوجاتا ہے سراسیمہ ہو کر سجدہ میںگر پڑا اور دعاکی تب ایک بلند آواز سے الہام ہوا ’’ڈگری ہوئی ہے مسلمان ہے۔‘‘ یعنی آیا باور نمے کنی۔صبح کو جب میں تحصیل میں گیا تو وہاں جاکر ایک شخص سے جو حاکم کا سررشتہ دار تھا۔میں نے دریافت کیا کہ کیا فلاں مقدمہ خارج ہوگیا ہے۔اس نے کہا نہیںا س میں تو ڈگری ہوگئی ہے۔پھر میں نے اس سے کہا کہ انہوں نے گاؤں میں مشہور کیا ہے کہ وہ مقدمہ خارج ہو گیاہے یہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا اصل بات یہ ہے کہ اس خبر میں وہ بھی سچے ہیں۔جب حافظ ہدایت علی صاحب فیصلہ لکھنے لگے تو میں کہیں باہر چلاگیا تھا، جب باہر سے آیا تو انہوں نے روبکارمجھے دی کہ یہ مقدمہ خارج کر دیا ہے۔سر رشتہ دار کہتا ہے کہ تب میں نے ان کو کہا کہ تم نے غلطی کی ہے۔اس نے کہانہیں میں نے کمشنرکا فیصلہ جو انہوں نے پیش کیا تھادیکھ لیا ہے۔میں نے ان کو کہا کہ فنانشل کمشنر کا فیصلہ بھی تو دیکھناتھا۔پھر اسے معلوم ہواکہ وہ فیصلہ جو اس نے کیا تھا وہ غلط ہے۔اس نے رو بکار لے کر پھاڑ کر پھینک دی اور دوسری روبکارلکھی جس میںڈگری کافیصلہ دیا اور اس طرح پر پیشگوئی جوخدا تعالیٰ نے قبل ازوقت مجھے بتلائی تھی پوری ہوئی۔اس پیشگوئی کے بھی بہت سے لوگ گواہ ہیں اور ابتک موجود ہیں۔(ث) ۱۔ثَـمَانِیْـنَ حَوْلًا۔پھر ث میں ثَـمَانِیْنَ حَوْلًا کی پیشگوئی ہے۔اس پیشگوئی پر ایک زمانہ گزر گیا۔کوئی شخص