ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 151

عالَم شروع ہونے والا تھا اس لیے خدا تعالیٰ نے قسم کھائی۔مجھے یہ دیکھ کر خدا تعالیٰ کا عجیب احسان محسوس ہو ا کہ میرے والدصاحب کے حادثہ انتقال کی وہ قسم کھاتا ہے اس الہا م کے ساتھ ہی پھر معاً میرے دل میں بشریت کے تقاضے کے موافق یہ خیال گذرا۔اور میں اس کو بھی خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے سمجھتا ہوں کہ چونکہ معاش کے بہت سے اسباب ان کی زندگی سے وابستہ تھے۔کچھ انعام انہیں ملتا تھا اور کچھ اور مختلف صورتیں آمدنی کی تھیں جس سے کوئی دو ہزار کے قریب آمدنی ہوتی تھی۔میں نے سمجھاکہ اب وہ چونکہ ضبط ہوجائیں گے اس لیے ہمیں ابتلا آئے گا۔یہ خیال تکلّف کے طور پر نہیں بلکہ خداہی کی طرف سے میرے دل میں گذرا۔اور اس کے گذرنے کے ساتھ ہی پھر یہ الہام ہو ا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ یعنی کیا اللہ اپنے بندہ کے لیے کافی نہیں ہے چنانچہ یہ الہام میں نے ملاوامل اور شرمپت کی معرفت ایک انگشتری میں اسی وقت لکھوا لیا تھا جو حکیم محمد شریف کی معرفت امرتسر سے بنوائی تھی اور وہ انگشتری میں کھدا ہوا الہام موجود ہے۔اب دیکھ لو کہ اس وقت سے لے کر آج تک کیسا تکفّل کیا۔اگر کسی کو شک ہو تو ملاوامل اور شرمپت سے پو چھ لے۔محمدشریف کی اولاد موجود ہے۔شاید وہ مہر کن بھی موجود ہو۔تکفّل بڑھتا گیا ہے یا نہیں جس جس قدر ضرورتیں پیش آتی گئی ہیں خو داس نے اپنے وعدہ کے موا فق تکفّل کیا ہے اور کر تا ہے۔اب بتاؤ کہ کیا یہ کوئی چھو ٹاسا نشان ہے۔اس طرح پر الف میں اور بہت سے نشان آسکتے ہیں۔(ب) ۱۔بشیر پھر اب ب کی مدمیں دیکھو۔بشیر ہے۔یہ لڑکا بشیر جو اَب مو جو د ہے اس کی بابت پہلے اشتہار ہوا تھا اور اس اشتہا ر کے موافق یہ پیدا ہوا۔پھر اس کی آنکھوں سے اس قدر پانی جاری تھا کہ آنکھیںبوٹی کی طرح سر خ ہو گئی تھیں اور مجھے اند یشہ تھا کہ آنکھوں کو خطرناک نقصان نہ پہنچے۔اس وقت