ملفوظات (جلد 2) — Page 82
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوہرِ قابل کھڑا کیا جاتا تو شیطان کا کچھ بھی پیش نہ جاتا۔زندگانی کی خواہش گناہ کی جڑ ہے زندگانی کی زیادہ خواہش اکثر گناہوں کی اور کمزوریوں کی جڑ ہے۔ہمارے دوستوں کو لازم ہےکہ مالک حقیقی کی رضا میں اوقات عزیز بسر کرنے کی ہر وقت کوشش رکھیں۔حاصل یہی ہے ورنہ آج چل دینے والا اور مثلاً اَور پچاس سال بعد کوچ کرنے میں کیا فرق ہے۔جو آج چاند و سورج ہے وہی اس دن ہو گا۔جو انسان نافع اور اس کے دین کا خادم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ خود بخود اس کی عمر اور صحت میں برکت ڈال دیتا ہے اور شرّالنّاس کی کچھ پروا نہیں کرتا۔سو آپ سب کام ہر حال خدا میں ہو کر کریں خود اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا۔تیس سال سے زیادہ عرصہ گزرتا ہے مجھے اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ تیری عمر اَسّی برس یا دو چار اوپر یا نیچے ہو گی۔اس میں بھی بھید ہے کہ جو کام مجھے سپرد کیا ہے اس قدر مدت میں تمام کرنا منظور ہو گا۔لہٰذا مجھے اپنی بیماری میں کبھی موت کا غم نہیں ہوا۔مجھے خوب یاد ہے کہ جن درختوں کے نیچے میں چھ سات سالہ عمر میں کھیلا کرتا تھا آج بعینہٖ بعض درخت اسی طرح ہرے بھرے سر سبز کھڑے ہیں لیکن میں اپنے حال کو کچھ اَور کا اَورہی دیکھتا ہوں۔تم بھی اس کو تصور کر سکتے ہو۔یہ طعن تشنیع ہمعصروں کی غنیمت سمجھیں۔اسی میں اصلاحِ نفس متصور ہے۔جب یہ نہ ہوں گے تو پھر خدمت مولیٰ کریم اور ہدیہ قابل حضرت عزّت کیا ہو گا؟آپ بیماری کا فکر کرتے ہیں۔تمہارے پہلے بھائی یعنی صحابہؓ تو بیعت ہی جان قربان کرنے کی کرتے تھے اور ہر حال منتظر رہتے تھے کہ کب وہ وقت آتا ہے کہ اپنے مالک حقیقی کے راستہ میں فدا ہوں۔غرض ہر حال کیا صحت اور کیا بیماری آپ مولیٰ کریم سے معاملہ ٹھیک رکھیں۔سب کام اچھے ہو جاویں گے۔۱ ۱ بدر جلد ۱۲ نمبر ۲ مورخہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۲