ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 58

ہو رہے تھے اور اندر ہی اندر وہ اس سے رہائی پانے کی فکر میں تھے۔اس وقت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر جب ا نہیں کہا کہ میں تم کو فرعون کی غلامی سے نجات دلاؤں گا تو وہ سب طیار ہو گئے۔بنی اسرائیل کے حالات اور واقعات کو بنظر غور دیکھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کی اصل غرض موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کی کیا تھی؟بڑی بھاری غرض یہی تھی کہ وہ فرعون کی غلامی سے نکلیں۔چنانچہ روحانی امور اور خدا پرستی کے متعلق وہ ہمیشہ ٹھوکر کھاتے رہے۔اور بے جا گستاخیوں اور شوخیوں سے کام لیتے رہے۔یہاں تک کہ لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً (البقرۃ:۵۶) اور اِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ (المائدۃ:۲۵) جیسے کلمات کہنے اور ذرا سی غیر حاضری میں گو سالہ پرستی کرنے سے باز نہ آئے اور بات بات میں ضد اور اعتراض سے کام لیتے۔ان کے حالات پر پوری نظر کے بعد صاف معلوم دیتا ہے کہ وہ صرف، صرف فرعون کی غلامی سے ہی آزاد ہونا چاہتے تھے۔خود اپنے آپ میں رہبری اور سرداری کی قوت نہ رکھتے تھے۔اس لئے موسیٰ علیہ السلام کی بات سنتے ہی طیار ہو گئے۔چونکہ بہت تنگ آچکے تھے اور ’’مَرتا کیا نہ کرتا‘‘ اپنی سر خروئی انہوں نے اسی میں سمجھی حضرت موسیٰ کے ساتھ نکل پڑے لیکن آخر موسیٰ کی کامیابیوں کی راہ میں ٹھوکر کا پتھر بنے۔غرض حضرت موسٰی کو بہت محنت و مشقت کرنے کی ضرورت نہ پڑی۔قوم زندانِ غلامی میں گرفتار تھی اور طیار تھی کہ کوئی آئے تو اسے قبول کر لیں۔ایسی حالت میں کئی لاکھ آدمیوں نے ایک دن میں قبول کر لیا اور انہوںنے اپنے عمل سے ثابت کر دکھایا کہ وہ کیسی قوم ہے اور موسٰی کی تعلیم سے انہوں نے کیا فائدہ اٹھایا ہے۔پس یہاں تک کہ ان کو مصر سے نکال لیا، کوئی بڑا کام نہ تھا۔اصلاح کا زمانہ جب آیا اور موسٰی نے جب چاہا کہ ان کو خدا پرست قوم بنا کر وعدہ کی سر زمین میں داخل کریں وہ ان کی شوخیوں اور گستاخیوں اور اندرونی بد اعمالیوں میں گزرا۔یہاںتک کہ خود حضرت موسیٰ بھی اس سرزمین میں داخل نہ ہو سکے اس لئے ان کا نام بھی محمدؐ نہ ہو سکا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت غرض جہاں تک غور کرتے جاؤ یہ پتہ ملے گا کہ کوئی نبی اس مبارک نام کا مستحق نہ تھا۔یہاں تک