ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 482 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 482

خدا تعالیٰ نے تقا ضا فرمایا کہ دُنیاکو روشنی سے حصّہ دے اس شخص کو جو حصہ لے سکے کیونکہ ہرایک اس قابل نہیں ہے کہ اس سے حصہ لے۔چنانچہ اُس نے مجھے اس صدی پر مامور کر کے بھیجا ہے تا کہ میں اسلام کو زندہ کروں۔جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پورے طور پر اور اصلی معنوں میں کامیاب نہ ہوسکے کیونکہ وہ بہتوں کو مخلص نہ بنا سکے۔ذرا سی غیر حاضری میں قوم بگڑ گئی باوجودیکہ ہارونؑ ابھی ان میں موجود تھے اور قوم نے گو سالہ پرستی اختیار کی اور ساری عمر قسم قسم کے شکوک و شبہات پیش کرتے رہے۔کبھی بھی انشراح قلب کے ساتھ ساری قوم باوجود بہت سے نشانوں کے دیکھنے کے مخلص نہ ہوسکی اور ایسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ناکام رہے۔یہاں تک کہ حواری بھی جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے بگڑ گئے اور بعض مرتد ہو کر لعنتیں کرنے لگے۔فقیہ اور فریسی جو موسیٰ کی گدی پر بیٹھنے والے تھے اُن کو نصیب نہ ہوا کہ اس آسمانی نور سے حصہ لیتے اور ان سچائی کی باتوں کو جو حضرت مسیح علیہ السلام لے کر آئے تھے قبول کرتے اور توجہ سے سنتے۔اگر چہ کہا جائے گا کہ ان کو بہت سی مشکلات پیش آئیں جو مسیح کی علامتوں اور نشانات کے متعلق پیشگوئیوں کے رنگ میں تھیں لیکن اگر توجہ کرتے اور رشید ہوتے اور ان کو قوت حاسہ ملی ہوتی تو ضرور فائدہ اٹھالیتے اور زور دے کر مشکلات سے نکل جاتے۔ان اُمور اور واقعات پر نگاہ کرنے سے طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کا مختصر جواب یہی ہے کہ انسان اپنے ہی حربہ سے ہلاک ہوتا ہے۔جو لوگ توجہ نہیں کرتے اور اس کے وجود کو بے سود اور فضول قرار دیتے ہیں اور اس کی پاکیزہ باتوں پر کوئی غور نہیں کرتے اس کا لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ وہ محروم رہ جاتے ہیں۔جیسا میں نے شروع میں کہا تھا کہ توجہ اور غور سے سننا چاہیے اور جو لوگ توجہ اور غور سے نہیں سنتے وہ ایسے ہی لوگ ہو تے ہیں جو کان رکھتے ہوئے نہیں سنتے۔اسی طرح پر میں اب یوں کہتا ہوں کہ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہوتے ہیں اور جن کے کانوں اور آنکھوں پر پردے ہوتے ہیں۔اس لیے وہ خدا تعالیٰ کے ماموروں اور مرسلوں کی باتوں پر ہنسی کرتے ہیں اور اُن سے فائدہ نہ اٹھا کر محروم ہو جاتے ہیں اور آخر عذابِ الٰہی میں