ملفوظات (جلد 2) — Page 39
رہے اس کو میں صحیح نہیں سمجھتا۔انسان اپنے اخلاق کو کیوںدور کرے۔منہاج نبوت کا طریق نہ چھوڑے۔ان کو بہت بڑے ظرف اور دل کا آدمی ہونا چاہیے اور وہ جو خدا کی طرف سے منہاج نبوت پر آتے ہیں اخلاق فاضلہ ساتھ لے کر آتے ہیں۔میرا یہی مذہب ہے۔انبیاء علیہم السلام کی مدح کے خلاف زبان چلانا میرے نزدیک کفر ہے۔(او ناعاقبت اندیش کفر کا فتویٰ دینے والو! کہاں ہو؟ کیا تم سنتے ہو یہ کیا کہتا ہے ؟اس پر بھی کہتے ہوکہ نبیوں کی توہین کرتا ہے خدا سے کچھ تو ڈرو۔ایڈیٹر) پس یہ بڑی عظیم الشان بات ہے کہ انسان اخلاق کو حاصل کرے اور تقویٰ اختیار کرے۔اس کے لئے صادقوں کی صحبت کی ضرورت ہے اس لئے میرے پاس رہنے کی فکر کرو۔ان دنوں کو غنیمت سمجھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اپنے لئے ایک نمونہ بناؤ۔۱ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۰۰ء ایمان بالغیب نواب عماد الملک فتح نواز جنگ سید مہدی حسین صاحب بارایٹ لاء جو کہ علیگڑھ کالج کے ٹرسٹی تھے۔بڑے شوق اور اخلاص سے حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔ہر ایک قدم جو صدق اور تلاش حق کے لئے اٹھایا جاوے اس کے لئے بہت بڑا ثواب اور اجر ملتا ہےمگر عالم ثواب مخفی عالم ہےجس کو دنیا دار کی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔بات یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ باوجود آشکارا ہو نے کے مخفی اور نہاں درنہاں ہے اور اس لئے الغیب بھی اس کا نام ہے۔اسی طرح پر ایمان بالغیب بھی ایک چیز ہے۔جو گو مخفی ہوتا ہے مگر عامل کی عملی حالت سے ظاہر ہو جاتا ہے۔اس زمانہ میں ایمان بالغیب بہت کمزور حالت میں ہے۔اگر خدا پر ایمان ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ لوگوں میں وہ صدق و حق کی تلاش او ر پیاس نہیں پائی جاتی جو ایمان کا خاصہ ہے۔۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۵ مورخہ ۱۰؍ فروری ۱۹۰۱ء صفحہ ۱ تا ۴