ملفوظات (جلد 2) — Page 409
دے سکتا تھا اس لئے میں نے چاہا کہ یہ ہونا چاہیے تاکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہو۔ممکن تھا کہ ایسے واقعات پیش نہ آتے لیکن جب ایسے امو رپیش آگئے کہ جن میں مصروفیت از بس ضروری تھی اور توجہ ٹھیک طور پر چاہیے تھی تو اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آگیا اور وہ پوری ہوئی اسی طرح پر جیسے خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا۔وَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔نمازوں کا جمع کرنا اللہ تعالیٰ کے ایما اور القا سے تھا میرا ان نمازوں کو جمع کرنا جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں اللہ تعالیٰ کے اشارہ اور ایما اور القا سے تھا حالانکہ مخالف تو خواہ مخواہ بھی جمع کر لیتے ہیں مسجد میں بھی نہیں جاتے گھروں ہی میں جمع کر لیتے ہیں۔مولوی محمد حسین ہی کو قسم دے کر پوچھا جاوے کہ کیا اس نے کبھی کسی حاکم کے پاس جاتے وقت نماز جمع کی ہے یا نہیں؟ پھرخدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان نشان پر کیوں اعتراض کیا جاوے۔اگر تقویٰ اور خدا ترسی ہو تو اعتراض کرنے سے پہلے انسان اپنے گھر میں سوچ لے کہ کیا کہتا ہوں اور اس کا اثر اور نتیجہ کیا ہوگا اور کس پر پڑے گا۔مسیح موعود کے ساتھ جلالی و جمالی اجتماع وابستہ ہیں میںنے اس اجتہاد میں یہ بھی سوچا کہ ممکن تھا ہم دس دن ہی میں کام کو ختم کر دیتے جو اس پیشگوئی کا پورا ہونے کا موجب اور باعث ہوا ہے مگرا للہ تعالیٰ نے ایسا ہی پسند کیا کہ جب یہ لوگ اپنے نفس کی خاطر دو دو مہینے نکال لیتے ہیں تو پیشگوئی کی تکمیل کے لئے ایسی مدت چاہیے جس کی نظیر نہ ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اگرچہ وہ مصالح ابھی تک نہیں کھلے مگر اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور مجھے امید ہے کہ ضرور کھلیں گے۔دیکھو! ضعف دماغ کی بیماری بدستور لاحق ہے اور بعض وقت ایسی حالت ہوتی ہے کہ موت قریب ہو جاتی ہے۔تم میں سے اکثر نے میری ایسی حالت کو معائنہ کیا ہے اور پھر پیشاب کی بیماری عرصہ سے ہے گویا دو زرد چادریں مجھے یہ پہنائی گئی ہیں ایک اوپر کے حصہ بدن میں اور ایک نیچے کے حصہ بدن میں ان بیماریوں کی وجہ سے وقت صافی بہت کم ملتا ہے مگر ان ایام میں خدا تعالیٰ نے خاص فضل فرمایا