ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 401 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 401

خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کوبند کردیاہے اور قفل لگا دیاہے تو پھر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ(الفاتـحۃ:۶) کی دعاتعلیم کرنے کی کیاضرورت تھی۔یہ تووہی بات ہوئی کہ ایک شخص کی مشکیںباندھ دی جاویں اور پھر اس کو ماریں کہ تُواب چل کر کیوںنہیںدکھاتا۔بھلا وہ کس طرح چل سکتا ہے فیوض وبرکات کے دروازے تو خود بند کر دیئے اور پھر یہ بھی کہہ دیا کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ(الفاتـحۃ:۶) کی دعا ہر روز ہر نماز میں کئی مرتبہ مانگا کرو۔اگرقانون قدرت یہ رکھا تھا کہ آپ کے بعد معجزات اور برکات کا سلسلہ ختم کر دیا تھا اورکوئی فیض اور برکت کسی کو ملنا ہی نہیں تھی تو پھر اس دعا سے کیا مطلب؟ اگر اس دعا کا کوئی اور نتیجہ نہیں تو پھر نصاریٰ کی تعلیم کے آثار اور نتائج اور اس تعلیم کے آثار اور نتائج میں کیا فرق ہوا۔لکھا تو انجیل میں یہی ہے کہ میری پیروی سے تم پہاڑ کو بھی ہلا سکو گے مگر اب وہ جوتی بھی سیدھی نہیں کر سکتے۔لکھا ہے میرے جیسے معجزات دکھا ؤ گے مگر کوئی کچھ نہیں دکھا سکتا۔لکھا ہے کہ زہریں کھا لو گے تو اثر نہ کریں گی۔مگر اب سانپ ڈستے اور کتے کاٹتے ہیں اور وہ ان زہروں سے ہلاک ہوتے ہیں اور کوئی نمونہ وہ دعا کا نہیں دکھا سکتے۔ان کا وہ نمونہ دعا کی قبولیت کا نہ دکھا سکنا ایک سخت حربہ اور حجت ہے عیسائی مذہب کے ابطال پر کہ اس میں زندگی کی روح اور تاثیر نہیں اور یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ انہوں نے نبی کا طریق چھوڑ دیا۔اب اگر ہم بھی یہ اقرار کر لیں کہ اب نشانات اور خوار ق نہیں ہوتے اور یہ دعا جو سکھائی گئی ہے اس کا کوئی اثر اور نتیجہ نہیں تو کیا اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ یہ اعمال معاذ اللہ بے فائدہ ہیں۔نہیں خدا تعالیٰ جو دانا اور حکمت والا ہے وہ نبوت کی تاثیرات کو قائم رکھتا ہے اور اب بھی اس نے اس سلسلہ کو اسی لئے قائم کیا ہے تا وہ اس امر کی سچائی پر گواہ ہو۔قرآن شریف کے جس قدر اعجاز معارف معجز کلامی کے مَیں نے جمع کئے ہیں اس وقت اللہ تعالیٰ ان کو ظاہر کر رہا ہے تاکہ آنحضرتؐکی نبوت اور آپ کے خوارق کا ثبوت ہو یہی ایک ہتھیار اور حربہ ہے جو ہم کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور جس کے ساتھ ہم مذاہب باطلہ کے سحر کو توڑنا چاہتے ہیں ہم قرآن شریف کو زندہ کلام ثابت کرنا چاہتے ہیں اسے