ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 377

جن سے حضرت اقدس کو موجودہ صورت میں بالکل انقطاع ہے کہ پھر ان کے کھانے کا کیا انتظام ہو گا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ دراصل وہ مر گئے ہیں اور وہ دونوںگھروںکے دیکھنے کو آئے ہیں۔ام المومنین نے کہا کہ رحمت اللہ خاص آپ سے ملنے کو آیا ہے۔پھر منظور علی ایک لڑکا ہے۔وہ ایک پوٹلی کپڑوں کی اس دوسرے گھر میں ہمارے ہی مکان کی سیڑھیوں میں سے ہو کر اس طرف لے گیا ہے۔جس کو انہوںنے کھولا ہے تو وہ سیاہ بوٹی اور سفید زمین کی ایک چھینٹ تھی۔اس کے بعد ان کا اَور اسباب بھی اِدھر ہی آگیا ہے۔تو معلوم ہوا کہ منظور علی ادھر جو پوٹلی لے گیا تھا وہ بھی غلطی سے لے گیا ہے۔دراصل اِدھر ہی کی تھی پھر آنکھ کھل گئی۔حضرت اقدس ؑ نے فرمایا۔میری اس رؤیا کے ساتھ جو کل سنائی تھی اس کے بعض اجزا ملتے ہیں اور فرمایا کہ غلام قادر میں جو قادر کا لفظ ہے اس کا تعلق دونوں گھروں سے ہے مگر رحمت اللہ مخصوص اسی گھر سے ہے۔۲۰؍نومبر ۱۹۰۱ء حُـجَّۃُ اللہ کا مقام سیر کو حسبِ معمول نکلے اور فرمایا۔جب انسان حجۃ اللہ کے مقام پر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی اس کے جوارح ہوتا ہے اور یہ سچی بات ہے کہ جب خدا تعالیٰ سے انسان پوری صلح کر لیتا ہے اور اپنی مرضی اور تمام خواہشوں اور قوتوں کو اس کے ہی سپرد کر دیتا ہے تو خدا س کی ساری طاقتیں ہو جاتا ہے۔اس کی مثال اس لوہے کی سی ہوجاتی ہے جو آگ میں ڈال دیا جاوے اور خوب گرم ہو کر آگ کی طرح سرخ ہو جاوے پھر اس میں اس وقت وہی خواص ہوتے ہیں جو آگ میں ہوتے ہیں۔خَیْـرُ الْمَاکِریْن کے معنے فرمایا کہ میں نے غور کیا ہے کہ مکر کا لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح علیہ السلام کے لئے قرآن میں آیا ہے اور میرے لئے بھی یہی لفظ براہین میں آیا ہے۔گویا مسیح علیہ السلام کے قتل کے لئے بھی ایک مخفی منصوبہ کیا