ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 266

پس جس طرح نبیوں یا رسولوں کو پرکھا گیا مجھے پَرکھ لو اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس معیار پر مجھے صادق پاؤ گے۔یہ باتیں میں نے مختصر طور پر کہی ہیں ان پر غور کرو اور خدا سے دعائیں کرو وہ قادر ہے کوئی راہ کھول دے گا اس کی تائید اور نصرت صادق ہی کو ملتی ہے۔فقط ۱ نواب محمد علی خان صاحب کے ایک سوال کے جواب میں تقریر جب حضرت صاحبزادہ بشیر احمد، شریف احمداور مبارکہ بیگم کی آمین ہوئی اس وقت جیسا کہ حضرت حجۃاﷲ کا معمول ہے کہ خدا تعالیٰ کے انعام و عطا یا پر شکر یہ کے طور پر صدقات دیتے ہیں آپ نے شکریہ کے طور پر ایک دعوت دی اس پر حضرت نواب صاحب قبلہ نے ایک سوال کیا کہ حضور یہ آمین جو ہوئی ہے یہ کوئی رسم ہے یا کیا ہے؟ اس کے جواب میں حضرت حجۃاﷲ علیہ الصلوٰۃوالسلام نے جو کچھ فرمایا وہ ہم یہاں درج کرتے ہیں۔شُبہ کا ازالہ کروانا صفائی قلب کا نشان ہے فرمایا۔جو امر یہاں پیدا ہوتا ہے اس پر اگر غور کیا جاوے اور نیک نیتی اور تقویٰ کے پہلوئوں کو ملحوظ رکھ کر سوچا جاوے تو اس سے ایک علم پیدا ہوتا ہے۔میں اس کو آپ کی صفائی قلب اور نیک نیتی کا نشان سمجھتا ہوں کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے اس کو پوچھ لیتے ہیں۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کو نکالتے نہیں اور پوچھتے نہیں جس سے وہ اندر ہی اندر نشوونما پاتا رہتا ہے اور پھر اپنے شکوک اور شبہات کے انڈے بچے دے دیتا ہے اور روح کو تباہ کر دیتا ہے ایسی کمزوری نفاق تک پہنچادیتی ہے کہ جب کوئی امر سمجھ میں نہ آوے تو اسے پوچھا نہ جاوے اور خود ہی ایک رائے قائم کر لی جاوے۔میں اس کو داخل ادب نہیں کرتا کہ انسان اپنی روح کو ہلاک کرلے۔ہاں یہ سچ ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر سوال کرنا بھی مناسب نہیں اس سے منع فرمایا