ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 264

کیا ہے۔اس مماثلت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ جس طرح پر موسوی خلفاء کا سلسلہ قائم ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ایک سلسلہ خلافت قائم ہو۔اگر اور کوئی بھی دلیل اس کے لئے نہ ہو تب بھی یہ مماثلت بالطبع چاہتی ہے کہ ایک سلسلہ خلفاء کا ہو۔دوم۔آیت استخلاف میں اﷲ تعالیٰ نے صاف طور پر ایک سلسلہ خلافت قائم کرنے کا وعدہ فرمایا اور اس سلسلہ کو پہلے سلسلہ خلافت کے ہمرنگ قرار دیا جیسا فرمایا كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النّور : ۵۶)۔اب اس وعدہ استخلاف کے موافق اور اس کی مماثلت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ جیسے موسوی سلسلہ خلافت کا خاتم الخلفاء مسیح تھا ضرور ہے کہ سلسلہ محمدیہ کے خلفاء کا خاتم بھی ایک مسیح ہی ہو۔سوم۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ۔اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ تم میں سے تمہارا امام ہوگا۔چہارم۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد تجدید دین کے لئے بھیجا جاتا ہے اب اس صدی کا مجدّد ہونا ضروری تھا اور مجدّد کا جو کام ہوتا ہے وہ اصلاح فسادات موجودہ ہوتی ہے پس جو فساد اور فتنہ اس وقت سب سے بڑھ کر ہے وہ عیسائی فتنہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس صدی کا جو مجدّد ہو وہ کاسرالصلیب ہو۔جس کا دوسرا نام مسیح موعود ہے۔پنجم۔موسوی خلافت کی مماثلت کے لحاظ سے بھی خاتم الخلفاء سلسلہ محمدیہ کا چودھویں ہی صدی میں ہونا ضروری ہے کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں مسیح علیہ السلام آئے تھے۔ششم۔جو علامات مسیح موعود کی مقرر تھیں ان میں سے بہت سی پوری ہو چکیں جیسے کسوف خسوف کا رمضان میں ہونا جو دو مرتبہ ہو گیا۔حج کا بند ہونا۔ذوالسنین ستارہ کا نکلنا۔طاعون کا پھوٹنا۔ریلوں کا اجرا۔اونٹوں کا بیکار ہونا وغیرہ۔ہفتم۔سورہ فاتحہ کی دعا سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنے والا اس امت میں سے ہوگا۔غرض ایک دو نہیں صدہا دلائل اس امر پر ہیں کہ آنے والا اسی امت میں سے آنا چاہیے اور اس کا یہی وقت ہے۔اب خدا تعالیٰ کے الہام اور وحی سے میں کہتا ہوں کہ وہ جو آنے والا تھا وہ مَیں ہوں۔قدیم