ملفوظات (جلد 2) — Page 237
ہوتے ہیں اور بجلی سے بچانے کے لیے تاریں لگائی جاتی ہیں۔یہ امور اس فطرت کو ظاہر کرتے ہیں جو بالطبع حفاظت کے لیے انسانوں میں ہے۔پھر کیا اللہ تعالیٰ کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے دین کی حفاظت کرے ؟ بے شک حفاظت کرتا ہے اور اس نے ہر بلا کے وقت اپنے دین کو بچایاہے۔اب بھی جب کہ ضرو رت پڑی اس نے مجھے اسی لیے بھیجا ہے۔ہا ں یہ امر حفاظت کا مشکوک ہو سکتا یا اس کا انکار ہوسکتا تھا اگر حالات اور ضرورتیں اس کی مؤید نہ ہوتیں مگر کئی کروڑ کتابیں اسلام کے ردّ میں شائع ہوچکی ہیں اور ان اشتہاروں اور دوورقہ رسالوں کا تو شمار ہی نہیں جو ہر روز اور ہفتہ وار اورماہوار پادریوں کی طرف سے شائع ہوتے ہیں۔ان گالیوں کو اگر جمع کیا جاوے جو ہمارے ملک کے مرتد عیسائیوں نے سید المعصومین صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پاک ازواج کی نسبت شائع کی ہیں تو کئی کوٹھے ان کتابوں کے بھرسکتے ہیں اوراگر ان کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر رکھا جاوے تو وہ کئی میل تک پہنچ جائیں۔عماد الدین، صفدرعلی اور شائق وغیرہ نے جیسی تحریریں شائع کی ہیں وہ کسی پر پوشیدہ نہیں۔عماد الدین کی تحریروں کے خطرناک ہونے کا بعض انصاف پسند عیسائیوں کو بھی اعتراف ہے چنانچہ لکھنؤ سے جو ایک اخبار شمس الاخبار نکلا کرتا تھا اس میں اس کی بعض کتابوں پریہ رائے لکھی گئی تھی کہ اگر ہندوستان میں پھر کبھی غدر ہو گا تو ایسی تحریروں سے ہوگا۔ایسی حالتوں میں بھی کہتے ہیںکہ اسلام کا کیا بگڑا ہے اس قسم کی باتیں وہ لوگ کرسکتے ہیں جن کویا تو اسلام سے کوئی تعلق اور درد نہیںاوریا وہ لوگ جنہوں نے حجروں کی تاریکی میں پرورش پائی ہے اور ان کو باہر کی دنیا کی کچھ خبر نہیں ہے۔پس ایسے لوگ اگر ہیں توان کی کچھ پروا نہیں۔ہاں وہ لوگ جو نور قلب رکھتے ہیں جن کو اسلام کے ساتھ محبت اورتعلق ہے اور زمانہ کے حالا ت سے آشنا ہیں ان کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ وقت کسی عظیم الشان مصلح کا وقت ہے۔مامور الٰہی ہونے کی شہادتیں غرض اس وقت میرے مامور ہونے پر بہت سی شہادتیں ہیں۔اول۔اندرونی شہادت ،دوم بیرونی شہادت، سوم صدی کے سر پر آنے والے مجدّد کی نسبت حدیث صحیح۔چہارم۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ( الـحجر : ۱۰ ) کا وعدۂ حفاظت۔