ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 175

لکھیں۔پھر ایک دفعہ ایسا ہی مولو ی صاحب نے حضرت اقدسؑ سے سوال کیا۔حضرتؑ نے فرمایا۔آریوں کے رد میں کتاب لکھو۔تب مولوی صاحب نے تصدیق براہین احمدیہ لکھی اور فرمایا کہ ان ہر دو مجاہدوں میں مجھے بڑے بڑے فائدے ہوئے۔۱ حضرت اقدسؑ کی ایک تقریر جون ۱۹۰۱ء پورے مسلمان بنو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم دنیا سے بالکل انقطاع کرکے اس کی طرف آجاؤ گے وہ خود تمہارا متولّی اور متکفّل ہو جائے گا۔جو آدمی تبتّل تام نہیں کرتا بلکہ کچھ رُو بدنیا رہتا ہے اور کسی قدر رُوبہ خدا بھی رہتا ہے وہ کبھی بھی مقصود اصلی کو حاصل نہیں کر سکتا۔اسے نہ دین کی عزّت مل سکتی ہے نہ دنیا کی۔خدا تعالیٰ تم سے یہ چاہتا ہے کہ تم پورے مسلمان بنو۔مسلمان کا لفظ ہی دلالت کرتا ہے کہ انقطاع کلی ہو۔اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو مسلمان پیدا کر کے لا انتہا فضل کیے ہیں بشرطیکہ وہ غور کرے اور سمجھے۔ایک ہندو سے رام چندر کے خدا ہونے یا خدا تعالیٰ کے خالق ہونے پر بحث کرو اس وقت تمہیں ایک لذّت اور سرور آئے گا کہ تمہارا خدا کیسا قادر مطلق، مُحْيٖ، مُـمِیْت، خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ خدا ہے اور برخلاف اس کے جنہوں نے رام چندر جیسے کھانے پینے کے محتاج انسان کوخدا بنایا ہے۔جب یہ کہیں گے کہ اس کی بیوی کو رَاون نکال کر لے گیا تو کس قدر شرم اس خدا کے ماننے والوں کو دامنگیر ہو گی کہ عجیب خدا ہے جو اپنی بیوی کی بھی حفاظت نہیں کر سکا ایسا ہی آریہ جب اپنے خدا کی یہ صفت مخالف سے سنے گا کہ اس نے ایک ذرّہ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ اپنے کسی بڑے سے بڑے پریمی اور بھگت کو بھی کبھی نجات نہیں دے سکتا،یا اس ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۳ موخہ ۲۴؍ جون ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۰ ، ۱۱