ملفوظات (جلد 2) — Page 173
نہیں ملا۔ہم اپنی جماعت کو کہتے ہیں کہ صرف اتنے پر مغرور نہ ہو جائے کہ ہم نماز، روزہ کرتے ہیں یا موٹے موٹے جرائم مثلاً زنا، چوری وغیرہ نہیں کرتے۔ان خوبیوں میں تو اکثر غیر فرقہ کے لوگ مشرک وغیرہ تمہارے ساتھ شامل ہیں۔تقویٰ کا مضمون باریک ہے۔اس کو حاصل کرو۔خدا کی عظمت دل میں بٹھاؤ۔جس کے اعمال میں کچھ بھی ریا کاری ہو خدا اس کے عمل کو واپس اُلٹا کر اس کے منہ پر مارتا ہے۔متقی ہونا مشکل ہے مثلاً اگر کوئی تجھے کہے کہ تو نے قلم چرایا ہے تو تُو کیوں غصہ کرتا ہے۔تیرا پرہیز تو محض خدا کے لئے ہے۔یہ طیش اس واسطے ہوا کہ رو بحق نہ تھا۔جب تک واقعی طور پر انسان پر بہت سی مَوتیں نہ آجائیں وہ متقی نہیں بنتا۔معجزات اور الہامات بھی تقویٰ کی فرع ہیں۔اصل تقویٰ ہے۔اس واسطے تم الہامات اور رؤیا کے پیچھے نہ پڑو بلکہ حصول تقویٰ کے پیچھے لگو۔جو متقی ہے اسی کے الہامات بھی صحیح ہیں اور اگر تقویٰ نہیں تو الہامات بھی قابل اعتبار نہیں۔ان میں شیطان کا حصہ ہو سکتا ہے۔کسی کے تقویٰ کو اس کے ملہم ہونے سے نہ پہچانو بلکہ اس کے الہاموں کو اس کی حالت تقویٰ سے جانچو اور اندازہ کرو۔سب طرف سے آنکھیں بند کر کے پہلے تقویٰ کی منازل کو طے کرو۔انبیاء کے نمونہ کو قائم رکھو۔جتنے نبیؑ آئے سب کا مدعا یہی تھا کہ تقویٰ کا راہ سکھلائیں۔اِنْ اَوْلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ ( الانفال :۳۵) مگر قرآن شریف نے تقویٰ کی باریک راہوں کو سکھلایا ہے۔کمال نبی کا کمال امت کو چاہتا ہے۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے آنحضرتؐ پر کمالات نبوت ختم ہوئے۔کمالات نبوت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم نبوت ہوا۔جو خدا تعالیٰ کو راضی کرنا چاہے اور معجزات دیکھنا چاہے اور خارقِ عادت دیکھنا منظور ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی بھی خارق عادت بنالے۔دیکھو! امتحان دینے والے محنتیں کرتے کرتے مدقوق کی طرح بیمار اور کمزور ہو جاتے ہیں۔پس تقویٰ کے امتحان میں پاس ہونے کے لئے ہر ایک تکلیف اٹھانے کے لئے طیار ہو جاؤ۔جب انسان اس راہ پر قدم اٹھاتا ہے تو شیطان اس پر بڑے بڑے حملے کرتا ہے لیکن ایک حد پر پہنچ کر آخر شیطان ٹھہر جاتا ہے۔یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب انسان کی سفلی زندگی پر موت آکر وہ خدا کے زیر سایہ ہو جاتا ہے۔وہ مظہر الٰہی اور خلیفۃ اللہ