ملفوظات (جلد 2) — Page 4
خدا تعالیٰ کا نظر آنا کوئی ضروری نہیں۔فرمایا۔یہ مطلب ہی نہیں۔یہ معنی ہی رؤیا کے ہیں اور لفظ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ نے تو حقیقت رؤیا کے فلسفہ کی بیان کی ہے۔۱ ابتلا موجب رحمت ہوتے ہیں شیخ رحمت اللہ صاحب کا خط دربارہ کسی ابتلا کے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں پہنچا، جس پر حضور نے فرمایا۔میں اس ابتلا میں ان کے لئے بہت دعا کرتا ہوں۔اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔درحقیقت ابتلا بڑی رحمت کا موجب ہوتے ہیں کہ ایک طرف عبودیت مضطر ہو کر اور چاروں طرف سے کٹ کر اسی اکیلے سبب ساز کی طرف توجہ ہو جاتی ہے اور اُدھر سے الوہیت اپنے فضلوں کے لشکر لے کر اس کی تسلی کے لئے قدم بڑھاتی ہے۔میں ہمیشہ یہ سنّت انبیاء علیہم السلام اور سنّت اللہ میں دیکھتا ہوں کہ جس قدر اس گرامی جماعت کی رأفت و رحمت ابتلا کے وقت اپنے خدام کی نسبت جوش مارتی ہے۔آرام و عافیت کے وقت وہ حالت نہیں ہوتی۔۲ ۹؍ستمبر ۱۹۰۰ء صبر کی تلقین حضرت اقدس نے قبل از نماز ظہر بڑی لطیف تقریر فرمائی اور مولانا عبد الکریم صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایاکہ جو کچھ ہو رہا ہے ارادۂ الٰہی کے موافق ہو رہا ہے۔ضروری تھا کہ یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے اُن آثار کی صداقت پر مہر لگا دیتے۔جن میں لکھا ہے کہ مہدی موعود کے وقت بڑا شور برپا ہو گا اور اس کو سلف وخلف کے عقائد کے خلاف باتیں بنانے والا کہہ کر کافر ٹھہرایا جائے گا۔اس وقت ہمارے احباب کو ایسا ہی صبر ۱،۲ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۵ مورخہ ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۰۶ ء صفحہ ۱۰ (مکتوبات کریمیہ نمبر ۵)