ملفوظات (جلد 1) — Page 43
لکھا ہے کہ اس زمانہ میں چاروں طرف نہریں پھیل جاویں گی اور کتابیں کثرت سے اشاعت پاویں گی۔غرض کہ یہ سب نشان اسی زمانہ کے متعلق تھے۔مسیح موعود کی جائے ظہور اب رہا مکان کے متعلق۔سو یاد رہے کہ دجال کا خروج مشرق میں بتلایا گیا ہے۔جس سے ہمارا ملک مراد ہے چنانچہ صاحب حـجج الکرامہ نے لکھا ہے کہ فتن دجال کا ظہور ہندوستان میں ہو رہا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ظہور مسیح اسی جگہ ہو جہاں دجال ہو۔پھر اس گاؤں کا نام قدعہ قرار دیا ہے جو قادیان کا مخفف ہے۔یہ ممکن ہے کہ یمن کے علاقہ میں بھی اس نام کا کوئی گاؤں ہو لیکن یاد رہے کہ یمن حجاز سے مشرق میں نہیں بلکہ جنوب میں ہے۔آخر اسی پنجاب میں ایک اور قادیان بھی تو لدھیانہ کے قریب ہے۔اس کے علاوہ خود قضاء و قدر نے اس عاجز کا نام جو رکھوایا ہے تو وہ بھی ایک لطیف اشارہ اس طرف رکھتا ہے۔کیونکہ غلام احمد قادیانی کے عدد بحساب جمل پورے تیرہ سو (۱۳۰۰) نکلتے ہیں۔یعنی اس نام کا امام چودہویں صدی کے آغاز پر ہوگا۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ اسی طرف تھا۔حوادث ارضی و سماوی حوادث بھی ایک علامت تھی۔حوادث سماوی نے قحط، طاعون اور ہیضہ کی صورت پکڑ لی۔طاعون وہ خطرناک عذاب ہے کہ اس نے گورنمنٹ تک کو زلزلہ ڈال دیا اگر اس کا قدم بڑھ گیا تو ملک صاف ہو جاوے گا۔ارضی حوادث لڑائیاں و زلازل تھے جنہوں نے ملک کو تباہ کیا۔مامور من اللہ کے لئے یہ بھی ضرور ہے کہ وہ اپنے ثبوت میں آسمانی نشان دکھاوے۔ایک لیکھرام کا نشان کیا کچھ کم نشان تھا۔ایک کُشتی کے طور پر کئی سال تک ایک شرط بدھی رہی۔پانچ سال برابر جنگ ہوتا رہا۔طرفین نے اشتہار دئیے۔عام شہرت ہو گئی، ایسی شہرت کہ جس کی مثال بھی محال ہو۔پھر ایسا ہی واقعہ ہوا جیسے کہ کہا گیا کیا اس واقعہ کی کوئی اور نظیر ہے؟ دھرم مہوتسو کے متعلق بھی کئی دن پہلے اعلان کیا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے کہ ہمارا مضمون سب پر غالب رہے گا۔جن لوگوں نے اس عظیم الشان اور پُر رُعب جلسہ کو دیکھا ہے وہ خود غور کر سکتے ہیں کہ ایسے جلسہ میں غلبہ پانے کی خبر پیش از وقت