ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 377

تھی اس طرف جھکتے ہوئے دکھ اور رنج معلوم ہوتا ہے۔روح پر ایک لرزہ پڑجاتا ہے۔اگر اس تاریک زندگی کا وہم یا تصور بھی آجائے اور پھر عبادات میں ایک لطف، ذوق، جوش اور شوق پیدا ہونے لگتا ہے رُوحانی قویٰ جو گناہ آمیز زندگی سے مردہ ہو چلے تھے اُن کا نشوونما شروع ہوتا ہے اور اخلاقی طاقتیں اپنا ظہور کرتی ہیں۔یہ چار چیزیں ہیں جن کے لئے ہر انسان دنیا میں مامور کیا گیا ہے اور اس کے حصول کے لئے دعا ہی ایک زبردست ذریعہ ہے اور ہم کو موقع دیا گیا ہے کہ پانچ وقت اُن مراتب کو مانگیں لیکن یہاں ایک اور مشکل ہے کہ اگرچہ اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:۶۱) فرمایا اور کہا گیا ہے اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ (البقرۃ:۱۸۷) اور قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دعاؤں کو سنتا ہے اور وہ بہت ہی قریب ہے۔قبولیّتِ دعا کے آداب لیکن اگر خدا تعالیٰ کی صفات اور اسماء کا لحاظ نہ کیا جائے اور دعا کی جائے تو وہ کچھ بھی اثر نہیں رکھتی۔صرف اس ایک راز کے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ معلوم نہ کرنے کی وجہ سے دنیا ہلاک ہو رہی ہے۔مَیں نے بہت لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ہم نے بہت دُعائیں کیں اور ان کا نتیجہ کچھ نہیں ہوا اور اس نتیجہ نے اُن کو دہریہ بنادیا۔بات اصل میں یہ ہے کہ ہر اَمر کے لیے کچھ قواعد اور قوانین ہوتے ہیں۔ایسا ہی دعا کے واسطے بھی قواعد و قوانین مقرر ہیں۔یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی اس کا باعث یہی ہے کہ وہ ان قواعد اور مراتب کا لحاظ نہیں رکھتے جو قبولیت دعا کے واسطے ضرور ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جب کہ ایک لانظیر اور بیش بہا خزانہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے اور ہم میں سے ہر ایک اس کو پاسکتا ہے اور لے سکتا ہے کیونکہ یہ کبھی بھی جائز نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو قادر خدا مان کر یہ تجویز کریں کہ جو کچھ اس نے ہمارے سامنے رکھا ہے اور جو ہمیں دکھایا ہے یہ محض سراب اور دھوکا ہے۔ایسا وہم بھی انسان کو ہلاک کرسکتا ہے۔نہیں بلکہ ہر ایک اس خزانہ کو لے سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی کمی نہیں۔وہ ہر ایک کو یہ خزانے دے سکتا ہے اور پھر بھی اس میں کمی نہیں آسکتی۔