ملفوظات (جلد 1) — Page 374
کی قوت کا ثبوت ہے کیونکہ یہ مسلّم مسئلہ ہے کہ نبی متبوع کے معجزات ہی وہ معجزات کہلاتے ہیں جو اس کے کسی متبع کے ہاتھ پر سرزد ہوں۔پس جو نشانات خوارق عادات مجھے دیئے گئے ہیں۔جو پیشگوئیوں کا عظیم الشان نشان مجھے عطا ہوا ہے یہ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ معجزات ہیں اور کسی دوسرے نبی کے متبع کو یہ آج فخر نہیں ہے کہ وہ اس طرح پر دعوت کر کے ظاہر کر دے کہ وہ بھی اپنے اندر اپنے نبی متبوع کی قُدسی قوت کی وجہ سے خوارق دکھا سکتا ہے۔یہ فخر صرف اسلام کو ہے اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ زندہ رسول ابدالآباد کے لیے صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہو سکتے ہیں جن کے نفوس طیبہ اور قوت قدسیہ کے طفیل سے ہر زمانہ میں ایک مردِ خدا خدانمائی کا ثبوت دیتا رہتا ہے۔نبی کا سب سے بڑا کمال، اظہار علَی الغیب غرض بات تو یہ تھی کہ اس دعا میں نبیوں کے کمالات سے حصہ لینے کی بھی دعا ہے کیونکہ منعم علیہ گروہ میں سب کا سردار انبیاء علیہم السلام کا گروہ ہے اور اُس کے کمالات میں سے سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ اُن پر غیب کی باتیں جن کو پیش گوئیاں بھی کہتے ہیں ظاہر کی جاتی ہیں۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس دعا میں درحقیقت پیشگوئیاں مانگنے کی دعا نہیں ہے بلکہ اس مرتبہ کے حصول کی ہی دعا ہے جہاں پہنچ کر پیش گوئی کرتا ہے۔پیش گوئی کا مقام اللہ تعالیٰ کے اعلیٰ درجہ کے قرب کے بدوں ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں وہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى (النجم:۴) کا مصداق ہوتا ہے اور یہ درجہ تب ملتا ہے جب دَنَا فَتَدَلّٰى (النجم:۹) کے مقام پر پہنچے۔جب تک ظلّی طور پر اپنی انسانیت کی چادر کو پھینک کر الوہیت کی چادر کے نیچے اپنے آپ کو نہ چھپائے یہ مقام اسے کب مل سکتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں بعض سلوک کی منزلوں سے ناواقف صوفیوں نے آکر ٹھوکر کھائی ہے اور اپنے آپ کو وہ خدا سمجھ بیٹھے ہیں اور اُن کی اس ٹھوکر سے ایک خطرناک غلطی پھیلی ہے جس نے بہتوں کو ہلاک کر ڈالا اور وہ وحدتِ وجود کا مسئلہ ہے جس کی حقیقت سے یہ لوگ ناواقفِ محض ہوتے ہیں۔میرا مطلب صرف اسی قدر ہے کہ مَیں تمہیں یہ بتاؤں کہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى کے درجہ پر