ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 336

نہ کرتے اور صدق اور استقلال کے ساتھ آکر ہماری باتیں سنتے، ہماری کتابیں پڑھتے اور ہمارے پاس رہ کر ہمارے حالات کا مشاہدہ کرتے تو وہ الزام جو ہم پر لگاتے ہیں نہ لگاتے۔لیکن جب انہوں نے خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کی عظمت نہ کی اور اس پر کار بند نہ ہوئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھ پر بدظنی کی اور میری جماعت پر بھی بدظنی کی اور جھوٹے الزام اور اتہام لگانے شروع کر دیئے یہاں تک کہ بعض نے بڑی بے باکی سے لکھ دیا کہ یہ تو دہریوں کا گروہ ہے۔نمازیں نہیں پڑھتے۔روزے نہیں رکھتے۔وغیرہ وغیرہ۔اب اگر وہ اس بدظنی سے بچتے تو ان کو جھوٹ کی لعنت کے نیچے نہ آنا پڑتا وہ اس سے بچ جاتے۔میں سچ کہتا ہوں کہ یہ بدظنی بہت ہی بُری بلا ہے انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتی ہے اور صدق اور راستی سے دور پھینک دیتی ہے۔دوستوں کو دشمن بنا دیتی ہے۔صدیقوں کے کمال کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان بدظنی سے بہت ہی بچے۔اور اگر کسی کی نسبت کوئی سوء ظن پیدا ہو تو کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے تاکہ اس معصیت اور اس کے بُرے نتیجے سے بچ جاوے جو اس بدظنی کے پیچھے آنے والا ہے۔اس کو کبھی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔یہ بہت ہی خطرناک بیماری ہے جس سے انسان بہت جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔۸۱؎ غرض بدظنی انسان کو تباہ کر دیتی ہے یہاں تک کہ جب دو زخی جہنم میں ڈالے جاویں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو یہی فرمائے گا کہ تمہارا یہ گناہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ سے بد ظنی کی۔بعض لوگ اس قسم کے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خطا کاروں کو معاف کر دے گا اور نیکو کاروں کو عذاب کرے گا۔یہ بھی خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے اس لئے کہ اس کی صفت عدل کے خلاف کرنا ہے اور نیکی اور اس کے نتائج کو جو قرآن شریف میں اس نے مقرر فرمائے ہیں بالکل ضائع کر دینا اور بے سود ٹھہرانا ہے۔پس یاد رکھو کہ بدظنی کا انجام جہنم ہے۔اس کو معمولی مرض نہ سمجھو۔بدظنی سے ناامیدی اور ناامیدی سے جرائم اور جرائم سے جہنم ملتا ہے۔اور یہ صدق کی جڑ کاٹنے والی چیز ہے۔اس لئے تم اس سے بچو اور صدیق کے کمالات کو حاصل کرنے کے لئے دعائیں کرو۔